سنی لیونی کے لیے اجتماعی خودکشی کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
آپ نے ایسی خبریں تو پڑھی یا سنی ہوں گی کہ اداکارہ سنی لیونی انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی شخصیت ہیں اور وہ جہاں جاتی ہیں لوگوں کا سیلاب امڈ آتا ہے لیکن لوگ سنی لیونی کے لیے اجتماعی خود کشی کریں گے یہ ذرا کچھ نیا نیا سا ہے۔
دراصل بنگلورو میں سنی لیونی نئے سال کے موقع پر’سنی نائٹ‘ کے نام سے ایک شو میں پرفارم کرنے والی ہیں لیکن رکشنا ویدک یوا سینا نام کا ایک گروپ سنی کے اس پروگرام کا سخت خلاف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں سنی کا رقص ان کے کلچر پر ایک حملہ ہے اور اس پروگرام کو منسوخ کیا جائے۔
اس دوران سنی کے خلاف احتجاج ہوا جس میں ان کے پتلے اور ان کی تصویں بھی جلائی گئیں۔
غالباً اس طرح کی تنظیمیں سنی کے ماضی کے سبب اس طرح کی مخالفت کرتی ہیں جو ایک پورن سٹار ہوا کرتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالانکہ کبھی سنی کے کسی اشتہار تو کبھی ان کے سٹیج شو کے خلاف وقتاً فوقتاً احتجاج ہوتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی سوا سو کروڑ لوگوں کے اس ملک میں جہاں بچوں کی شادیاں آج بھی اکثر والدین ہی طے کرتے ہیں، جہاں کھلے عام محبت کا اظہار ممنوع تصور کیا جاتا ہے اورجہاں لڑکیوں کے اکیلے گھر سے باہر نکلنے پر والدین کا دل آج بھی خوفزدہ رہتا ہے، سنی لیونی بہت مقبول ہیں۔
یہ بھی پڑیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پورن ہب ویب سائٹ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ کے بعد سب سے زیادہ انڈیا میں پورن مواد دیکھا جاتا ہے۔ تو بھائی یہ کیا دوہرا معیار ہے کہ گڑ کھائیں اور گلگلوں سے پرہیز۔
'دنگل گرل' کی حمایت میں کنگنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images/FACEBOOK/ZAIRAWASIM
دنگل گرل زائرہ وسیم کے ساتھ دلی ممبئی پرواز کے دوران مبینہ بد سلوکی کے بعد سوشل میڈیا ایک بار پھر سرگرم ہوگیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی تو کچھ نے زائرہ کی۔
بہرحال بالی وڈ زائرہ کی حمایت میں آگے آیا جن میں سب سے سخت بیان کنگنا رناوت کا تھا۔
کنگنا کا کہنا تھا کہ اگر وہ زائرہ کی جگہ ہوتیں تو اس شخص کی ٹانگ تور دیتیں۔ کنگنا کہتی ہیں کہ یہ کتنی خوفناک بات ہے کہ اس بدتمیزی کے خلاف آواز اٹھانے والی کمسن زائرہ کی تعریف کرنے کے بجائے انھیں ہی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑیں
کنگنا کو لوگوں پر حیرت ہے اور مجھے کنگنا پر جو شاید بھول گئی ہیں کہ بنگلورو میں پچھلے سال 31 دسمبر کی رات بڑے پیمانے پر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ پر وہاں کے ریاستی وزیر نے لڑکیوں کے پہناوے کو قصوروار ٹھرایا تھا۔
بات دراصل یہ ہے کہ جب ریپ یا جنسی زیادتی کی شکار لڑکیوں اور خواتین کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیے جانے کا چلن ہو تو پھر تپسی پنو کی اس خواہش کا کیا مول ہے کہ زائرہ کو انصاف ملنا چاہیے۔
رشی کپور پھر میڈیا پر بھڑکے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لگتا ہے کہ اداکار رشی کپور نے لوگو ں اور خاص طور پر میڈیا کے لوگوں کو بے عزت کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔
پہلے تو وہ سوشل میڈیا پر طوفان مچا کر رکھتے تھے لیکن اب وہ یوں بھی لوگوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے لگے ہیں۔
اس ہفتے اپنے والد راج کپور پر لکھی گئی کتاب کی رونمائی کی تقریب میں رشی کپور صحافیوں کی موجودگی پرچراغ پا ہوگئے۔
یہ بھی پڑیں
رشی کپور نے صحافیوں سے پوچھا آپ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا صحافی تو رشی کپور ’مفت کی دارو‘ بڑ بڑاتے ہوئے خود تو وہاں سے چلے گئے لیکن فوراً ہی اپنے محافطوں کو بھیج کر صحافیوں کو نکال باہر کروا دیا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں جب رشی کپور نے اپنا آپا کھویا ہو۔ اس سے پہلے بھی وہ کبھی تصاویر لینے پر تو کبھی سوال کرنے پر صحافیوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنا چکے ہیں۔













