فلم پشپا سے متاثر ہو کر صندل کی مہنگی لکڑی ’سمگل کرنے والا گروہ گرفتار‘

پشپا، لکڑی، گینگ

،تصویر کا ذریعہUP Police

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر متھرا میں پولیس نے ایک ایسے سمگلر گروہ کو گرفتار کیا ہے جو تیلگو زبان کی ہِٹ فلم ’پشپا‘ سے متاثر ہو کر مبینہ طور پر لال صندل کی لکڑی کی سمگلنگ کرتا تھا۔

اس فلم میں ہیرو پشپا راج ایک مزدور ہے جو کہ صندل کی مہنگی لکڑی کو ریاست آندھرا پردیش سے اپنے دوستوں کی مدد سے سمگل کرتا ہے۔

تاہم مقامی میڈیا کے مطابق اس حقیقی کہانی میں ایک ملزم نے ایم بی اے بھی کر رکھا تھا لیکن وہ سمگلر بننے سے پہلے بے روزگار تھا۔

پیر کے روز پولیس کو کسی مخبر سے خبر ملی کہ سمگلرز ایک اور ریاست سے لال صندل کی لکڑی سمگل کر کے ایک کار میں لا رہے ہیں جسے آس پاس کے مذہبی اداروں میں مہنگے داموں فروخت کیا جائے گا۔

پولیس نے محکمہ جنگلات کے ساتھ مل کر ملنے والی تفصیلات کے مطابق ایک چیک پوسٹ لگایا اور سات سمگلروں کو گرفتار کر لیا۔

مزید چار کی تلاش جاری ہے۔ یہ ملزمان انڈیا کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس نے اس گروہ سے تقریباً 563 کلو گرام صندل کی لکڑی برآمد کی، جس کی قیمت ایک کروڑ روپے کے قریب ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق تفتیش میں معلوم ہوا کہ ان افراد نے ’پشپا فلم دیکھ کر بڑے منافع کی لالچ میں ایک گروہ بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ غیر قانونی طریقے سے (جنوبی ریاست) آندھرا پردیش سے صندل کی لکڑی سمگل کر کے مہنگے داموں پر متھرا کے مذہبی مقامات اور آس پاس کے علاقوں میں فراہم کر رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پشپا

،تصویر کا ذریعہPushpa: The Rise

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ملزمان نے ایسا فلم پشپا سے متاثر ہو کر کیا

متھرا دلی سے تقریباً 100 کلو میٹر دور واقع ہندو عقیدے کا ایک اہم مذہبی مقام ہے جہاں متعدد مندر ہیں اور لوگ مذہب سے منسلک سیاحت کے لیے بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

صندل کی لکڑی کا استعمال پوجا کے دوران کیا جاتا ہے جس کے وجہ سے متھرا میں اس کی مانگ نسبتاً زیادہ ہے۔

پولیس افسر شیلیش کمار پانڈے نے مقامی میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ان سے پوچھ گچھ سے اہم معلومات حاصل ہوئی جس سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ کہاں سے آ رہے تھے اور لکڑی کو کہاں کہاں بھیجا جانا تھا۔ تفتیش جاری ہونے کی وجہ سے ابھی پوری تفصیل نہیں دی جا سکتی ہے۔‘

صندل کی لکڑی بازار میں کافی مہنگی ہوتی ہے، خاص طور پر لال صندل کی۔ اس میں کئی قسم کی صندل کی لکڑی ہوتی ہے جو الگ الگ قیمت میں فروخت کی جاتی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

اس کی قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے 2021 میں 15 لاکھ روپے فی ٹن سے لے کر ایک اعشاریہ 95 کروڑ روپے فی ٹن تک کی قیمت میں لال صندل کی لکڑی کو فروخت کیا تھا۔

لال صندل کی لکڑی انڈیا میں صرف جنوبی ریاستوں اور مشرقی گھاٹوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا درخت ہوتا ہے جس کی اونچائی پانچ سے آٹھ میٹر تک ہوتی ہے۔

اس لکڑی کا استعمال مقامی اور بین الاقوامی سطح پر نقش و نگار، فرنیچر اور عمارت کی تعمیر میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں اس لکڑی کا استعمال مختلف آیوروید ادویات میں بھی ہوتا ہے۔