بھارت: پولیس کے ہاتھوں صندل کے 20 سمگلر ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی گذشتہ سال وجود میں آنے والی نئی ریاست تلنگانہ میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایک تصادم کے دوران پانچ قیدی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک دوسرے واقعے میں ملحق ریاست آندھر پردیش میں پولیس نے 20 سمگلروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
وارنگل کے ایس پی امبر کشور جھا نے بی بی سی سے بات چیت میں پانچ قیدیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ واقعہ وارنگل اور نلگوڈا کی سرحد پر ہوا۔
انھوں نے مزید بتایا: ’یہ وارنگل کی جیل میں تھے اور انھیں عدالت میں سماعت کے لیے نلگوڈا لایا جا رہا تھا۔ ان کے نام وقار احمد، محمد ظہیر، سعید اجمل، اظہار خان اور محمد حنیف ہیں۔‘
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ یہ لوگ کون تھے تو انھوں نے صرف اتنا بتایا: ’یہ لوگ آئی ایس آئی سے وابستہ قیدی تھے۔‘
یہ لوگ پولیس کو کیسے ملے اور کہاں سے آ رہے تھے اس سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ ابھی جائے حادثہ پر جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب بھارت کی جنوب مشرقی ریاست آندھر پردیش کی سپیشل ٹاسک فورس نے ایک کارروائی کے دوران صندل کی لکڑی کے 20 سمگلروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
یہ واقعہ چتّور ضلعے کے علاقے چندراگیری کے تروپتی پہاڑوں میں ہوا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق سمگلروں نے سرخ صندل کے پیڑ کاٹنے کے لیے کیمپ لگایا ہوا تھا۔ سمگلر یہ قیمتی لکڑی بین الاقوامی بازاروں فروخت کرتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح صندل کی لکڑی کے سمگلر متعدد قلیوں کے ساتھ جنگل میں گھوم رہے تھے جب پولیس نے انھیں روکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس پر سمگلروں نے کلہاڑی اور پتھروں سے حملہ کر دیا جس کے جواب میں پولیس نے گولیاں چلائیں جس میں کم از کم 20 سمگلر ہلاک ہو گئے۔
آندھرا پردیش کے وزیر داخلہ نیماکیالا چینارجپپا نے بتایا: ’کم از کم 20 سمگلروں کو اس واقعے میں ہلاک کیا گیا ہے جسے بڑی پیش رفت کہا جا سکتا ہے۔ ہم لوگ اس علاقے کو چھان رہے ہیں تاکہ باقی سمگلروں کو پکڑا جا سکے۔‘

گذشتہ دس سالوں کے درمیان صندل کے سمگلروں میں بہت اضافہ ہوا ہے جن کی وجہ سے محکمۂ جنگلات کے کئی افسروں کی جانیں بھی گئی ہیں۔
گذشتہ سال جب آندھر پردیش میں ٹی ڈی پی کی حکومت آئی تو ریاست کے وزیر اعلیٰ نارا چندربابو نائیڈو نے ریاست سے ٹمبر مافیا کو ختم کرنے کا عہد کیا اور پولیس اور محکمۂ جنگلات کے افسروں پر مبنی ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔
ہرچند کہ صندل کی سمگلنگ کو روکنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے قلیوں کی گرفتاریوں کے علاوہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ صندل کی لکڑی کے سمگلر اور خطرناک ڈاکو ویرپن سنہ 2004 میں ان کی ہلاکت سے قبل ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک کرناٹک اور تمل ناڈو سمیت بھارتی سرحدی پولیس کے لیے چیلنج بن گئے تھے اور انھوں نے سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا تھا۔







