آئی ایس آئی کو راز بیچنے پر بھارتی دفاعی ادارے کا اہلکار گرفتار

بھارت اور پاکستان ہمیشہ ہی ایک دوسرے پر مختلف نوعیت کے الزام عائد کرتے رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت اور پاکستان ہمیشہ ہی ایک دوسرے پر مختلف نوعیت کے الزام عائد کرتے رہتے ہیں

بھارتی پولیس نے جمعہ کو مشرقی ریاست اڑیسہ میں ایک 35 سالہ شخص کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس ایس کو دفاعی راز بیچنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اشور چندرا بہیرا انڈین ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیش میں کمیرہ مین کے طور پر کام کرتا تھا اور اس ادارے میں میزائلوں پر ہونے والے کام کی تفصیلات پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو فراہم کر رہا تھا۔

برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے اڑیسہ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اے کے پنگراہی کے حوالے سے کہا کہ ملزم گزشتہ دس ماہ سے آئی ایس آئی کو میزائلوں کے تجربات اور دیگر دفاعی نوعیت کے کاموں کے بارے میں معلومات دے رہا تھا۔

آئی جی کے مطابق ملزم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے ایک ایجنٹ سے کولکتہ میں کئی مرتبہ ملاقات کر چکا ہے۔

اڑیسہ میں موجود نامہ نگار سندیپ ساہو نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ اس شخص کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔

سندیپ ساہو نے بتایا کہ اس شخص کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اشور چندرا بہیرا پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے جن میں غداری کے علاوہ انڈین آفشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

اشور چندرا کو پولیس کے مطابق بیرونی ممالک سے فون کال موصول ہوتی تھیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پولیس کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بہیرا سنہ 2007 سے انڈین ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن میں ملازم تھے۔

گزشتہ آٹھ سے دس ماہ کے دوران ان کی سرگرمیاں مشکوک ہو گئیں تھیں اور ان کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی تھی۔