انڈین شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر امریکہ پہنچنے کا سفر کیسا ہوتا ہے؟

ایریزونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک انڈین خاندان امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ملک میں داخلے کا انتظار کر رہا ہے
    • مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈین پنجاب کے ایک انتہائی قدامت پسند علاقے میں رہنے والے ہم جنس پرست شخص کے طور پر جشن پریت سنگھ کے لیے زندگی طویل عرصے سے انتہائی مشکل رہی تھی۔

مگر گذشتہ برس کے اواخر میں جو ہوا وہ بہت مختلف تھا۔ اُنھوں نے ریاست کیلیفورنیا کے شہر فریسنو سے بی بی سی کو بتایا کہ ’15 سے 20 لوگوں نے مجھے مارنے کی کوشش کی۔ میں وہاں سے جان بچا کر بھاگ نکلا مگر اُنھوں نے مجھے کئی جگہ سے کاٹ دیا۔‘

اس حملے کی وجہ سے ان کے بازو کی ساخت بگڑ گئی اور ایک انگوٹھا کٹ گیا۔

ان کا سفر اُنھیں ترکی اور فرانس لے گیا۔ بالآخر وہ وہاں سے 12 ہزار 800 کلومیٹر دور امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر پہنچ گئے جہاں سے کیلیفورنیا میں داخل ہو کر اُنھوں نے امریکہ میں نئی زندگی شروع کی۔

وہ اس سب میں اکیلے نہیں۔ امریکہ میں انڈین تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ سست مگر مستحکم انداز میں جاری رہا ہے۔ ہر ماہ درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک انڈین تارکینِ وطن امریکہ پہنچتے ہیں۔

مگر اس سال اس تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والے مالی سال 2022 کی ابتدا سے 16 ہزار 290 انڈین شہریوں کو میکسیکو کی سرحد پر امریکی حراست میں لیا گیا۔ اس سے قبل سنہ 2018 میں آٹھ ہزار 997 افراد کا ریکارڈ تھا۔

ماہرین اس اضافے کی وجہ کئی عوامل کو قرار دیتے ہیں جن میں انڈیا میں تفریق کا ماحول، عالمی وبا کے باعث عائد پابندیوں کا خاتمہ، حالیہ امریکی حکومت کو انڈین شہریوں کے لیے موافق تصور کیے جانے اور انسانی سمگلنگ کے پہلے سے موجود نیٹ ورکس کی سرگرمیوں میں اضافے جیسے عوامل ہیں۔

ٹیکساس اور کیلیفورنیا میں انڈین شہریوں کی نمائندگی کرنے والے امیگریشن وکیل دیپک اہلووالیہ کہتے ہیں کہ جہاں کچھ تارکینِ وطن معاشی وجوہات کی بنا پر امریکہ آ رہے ہیں تو وہیں کچھ لوگ اپنے ملک میں ظلم و ستم سے بھاگ کر یہاں پہنچ رہے ہیں۔

ان دوسری طرح کے افراد میں مسلمان، مسیحی اور ’نچلی ذات‘ کے ہندوؤں سے لے کر انڈیا کے ہم جنس پرست افراد تک شامل ہیں جنھیں انتہا پسند ہندو قوم پرستوں سے خطرہ ہے۔ ان لوگوں میں علیحدگی پسند تحریکوں اور پنجاب کو سنہ 2020 سے اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے کسان احتجاج سے منسلک لوگ بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ چند برسوں میں ان میں سے کئی گروہوں کے لیے انڈیا میں حالات بگڑے ہیں۔

مشکل فیصلے

جشن پریت سنگھ کے لیے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ پہلے تو اُنھوں نے کسی اور انڈین شہر منتقل ہونے کا سوچا مگر پھر انھیں خدشہ محسوس ہوا کہ وہاں بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’(انڈیا کا) معاشرہ ہم جنس پرستوں کے لیے کشادہ ذہن نہیں رکھتا۔ وہاں ہم جنس پرست ہونا بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘

انڈیا نے سنہ 2018 میں ہم جنس سیکس کو قانونی قرار دیا ہے تاہم ہم جنس شادیاں اب بھی غیر قانونی ہیں۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی امیگریشن حکام ملک میں داخل ہونے والے انڈینز کی پڑتال کر رہے ہیں

ان کے بھائی نے جلد ہی اُن کا رابطہ انڈیا میں ہی ایک ’ٹریول ایجنسی‘ سے کروایا جو ایک انتہائی منظم اور مہنگے سمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھی۔

اس ایجنسی نے اُنھیں پہلے ترکی پہنچا دیا جہاں ’زندگی بہت مشکل تھی‘ اور پھر فرانس، جہاں اُنھوں نے کچھ عرصہ رکنے کا سوچا مگر اُنھیں کام نہیں مل سکا۔ اس پورے سفر میں اُنھیں صرف چھ ماہ لگے۔

بالآخر ان کے ’ٹریول ایجنٹ‘ نے اُنھیں امریکہ جانے والے شہریوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے ہمراہ روانہ کیا، جس میں جشن پریت سنگھ کے علاوہ کئی لوگ اپنے خاندانوں سمیت بھی شامل تھے۔

جشن پریت نے کہا کہ ’اُنھوں نے ہم سے بہت پیسے لیے مگر فرانس سے اُنھوں نے مجھے کینکن پہنچا دیا اور وہاں سے میکسیکو سٹی اور پھر شمال میں۔‘

مشکل سفر

امیگریشن وکیل دیپک اہلووالیہ کے مطابق جشن پریت سنگھ جیسے تارکینِ وطن امریکہ کو ایک اچھی زندگی کا ’آخری راستہ‘ سمجھتے ہیں۔

مگر بے پناہ فاصلوں کی وجہ سے امریکہ کا یہ سفر بے حد مشکل بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روایتی طور پر امریکہ میکسیکو کی سرحد پر پہنچنے والے انڈین تارکینِ وطن ایسی سمگلنگ سروسز کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو انڈیا سے جنوبی امریکہ تک پہنچاتی ہیں۔

اُنھیں پورے سفر میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے اور ایک ہی زبان بولنے والے ہم وطنوں یا پھر خاندان کے افراد کے ہمراہ کے ساتھ سفر کروایا جاتا ہے۔

ان نیٹ ورکس کی شروعات انڈیا میں قائم ’ٹریول ایجنٹس‘ سے ہوتی ہے جو سفر کے کچھ حصوں کی ذمہ داری لاطینی امریکہ میں موجود اپنے پارٹنر جرائم پیشہ گروہوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم امیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ میں تجزیہ کار جیسیکا بولٹر کہتی ہیں کہ انڈین تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافہ اس لیے بھی ہو رہا ہے کیونکہ ان سمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے کامیابی سے امریکہ پہنچنے والے افراد انڈیا میں مقیم اپنے خاندانوں اور دوستوں کو بھی ان کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

’اس سے لامحالہ یہ نیٹ ورک پھیلتے ہیں اور مزید تارکینِ وطن آتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ یہ تب تک نہیں ہوتا جب تک کہ لوگ خود بھی ملک نہ چھوڑنا چاہیں۔‘

پنجاب سے ہی تعلق رکھنے والے 20 سال کے من پریت کا تجربہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ عام طور پر یہ جنوبی روٹ لینے والے لوگوں کا ہوتا ہے۔

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سخت نقاد من پریت کو ان کے سیاسی خیالات کی وجہ سے جب نشانہ بنایا گیا تو وہ ملک چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے۔

کیلیفورنیا سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ’ایکواڈور سے میں بس لے کر کولمبیا پہنچ اور کولمبیا سے میں نے پاناما کی بس لی۔ وہاں سے میں ایک کشتی کے ذریعے اور گوئٹے مالا گیا، وہاں سے میکسیکو اور بالآخر امریکہ میں داخل ہو گیا۔‘

حالانکہ اس سفر میں ماہر سمگلرز رہنمائی کرتے ہیں مگر سرحد تک کے سفر میں بے پناہ خطرات موجود رہتے ہیں جن میں مقامی گینگز کے ہاتھوں لوٹ مار، بھتہ خوری، کرپٹ حکام، سخت موسم، چوٹیں اور بیماریاں شامل ہیں۔

ان خطرات کو سنہ 2019 میں اس وقت میڈیا میں نمایاں توجہ ملی جب پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک چھ سالہ بچی ریاست ایریزونا کے سرحدی شہر لیوک وِل میں تپتے صحرا میں پڑی ملی۔ اس واقعے پر انڈین میڈیا میں کئی شہ سرخیاں بنیں۔

بعد میں یہ معلوم ہوا کہ بچی 42 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں اس وقت فوت ہو گئی تھیں جب اس کی ماں دیگر افراد کے ساتھ مل کر پانی کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔

پاناما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2019 میں پاناما میں ایک کیمپ میں انڈین تارکینِ وطن

ایک غیر یقینی مگر نئی شروعات

ایک مرتبہ امریکہ پہنچنے پر جشن پریت سنگھ جیسے تارکینِ وطن پناہ کے حصول کا ایک طویل قانونی مرحلہ شروع کرتے ہیں۔ اکثر اوقات ان کی شروعات ایسے انٹرویوز سے ہوتی ہے جس میں اُنھیں حکام کو قائل کرنا ہوتا ہے کہ اگر وہ وطن واپس لوٹے تو اُنھیں نشانہ بنایا جائے گا۔

دیپک اہلووالیہ نے بتایا کہ ’یہ پہلا قدم سب سے اہم ہے۔ اگر افسر کو لگا کہ آپ کو کوئی حقیقی خطرہ نہیں تو آپ کا کیس کبھی بھی آگے نہیں بڑھے گا۔ یہ بہت صدمہ انگیز بات ہے۔‘

اگر افسر کو لگے کہ واقعی کوئی حقیقی خطرہ ہے تو درخواست گزار کو ممکنہ طور پر ایک امیگریشن جج کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس دیا جاتا ہے جو ان کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں۔

یہ مرحلہ طویل ہوتا ہے اور امریکہ بھر میں اب اس مرحلے میں کئی برس لگنا عام بات ہے جبکہ کسی مثبت نتیجے کی کوئی یقین دہانی نہیں۔

جشن پریت سنگھ گذشتہ جون کے اواخر سے امریکہ میں ہیں۔ فی الوقت وہ وکیل کرنے کے لیے پیسے جوڑ رہے ہیں۔

حالانکہ ان کا امریکہ میں طویل مدتی قیام یقینی نہیں اور ان کا سفر لمبا تھا مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ پھر بھی اس کے متبادل سے بہت بہتر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ہمیشہ اپنی جان کا خوف تھا۔ جب سے میں یہاں آیا ہوں مجھے کسی چیز کا خوف نہیں۔‘