ٹیکساس میں جس ٹرک سے 53 تارکین وطن کی لاشیں ملیں اس کا ’ڈرائیور لاعلم تھا کہ اے سی کام نہیں کر رہا ہے‘

ٹرک ڈرائیور

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک مخبر کے مطابق جس ٹرک سے 53 تارکین وطن کی لاشیں ملی تھیں اس کے ڈرائیور کو معلوم نہیں تھا کہ ایئر کنڈشنر (اے سی) کام کرنا بند ہوگیا ہے۔

عدالت میں دائر کردہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ہمیرو زمورانو کو مسئلے کا علم نہیں تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیور ٹرک کے قریب چھپا ہوا تھا۔

امریکی تاریخ میں انسانی سمگلنگ کے اس سب سے زیادہ خوفناک سانحے میں ڈرائیور سمیت چار افراد پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

ٹرک میں زندہ پائے جانے والے کئی بچوں کا ایک مقامی ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ جبکہ ایسا ہی ایک اور ٹرک ٹیکساس کے اسی علاقے میں پکڑا گیا ہے جس میں مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ کا کام کیا جا رہا تھا۔

45 سالہ زمورانو اور 28 سالہ مبینہ ماسٹر مائنڈ کرسچن مارٹینز پر الزام ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو سمگلنگ آپریشن سے متعلق موبائل فون پر پیغام بیچھے تھے۔ یہ ٹیکسٹ میسجز شدید گرمی کے موسم میں ٹرک کے پکڑے جانے سے پہلے اور بعد میں بھیجے گئے۔

ایک خفیہ سرکاری مخبر، جو کہ ٹیکساس پولیس کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے شعبے کے ساتھ کام کر رہا ہے، نے حکام کو بتایا کہ ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد بھی دونوں نے آپس میں رابطہ قائم کیا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق مارٹینز نے مبینہ طور پر مخبر کو بتایا تھا کہ ’ڈرائیور کو معلوم نہیں تھا کہ اے سی یونٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان افراد کی موت ہوئی ہے۔‘

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ مخبر اور مارٹینز ایک دوسرے سے محض کچھ میٹر دور کھڑے تھے جب ڈرائیور کے ساتھ یہ بات چیت ہوئی۔

ڈرائیور زمورانو ٹرک کے قریب جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے۔ میکسیکن حکام کے مطابق ابتدائی طور پر انھوں نے خود کو متاثرین میں سے ایک ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

Image shows emergency responders at scene

،تصویر کا ذریعہReuters

جب نگرانی کے لیے کھینچی گئی تصاویر میں دیکھا گیا کہ وہی اس ٹرک کو ٹیکساس میں پیر کو امریکی بارڈر پٹرول چیک پوائنٹ سے چلا کر لے جا رہے ہیں تو انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک کانگریس رکن کے مطابق جب انھیں پکڑا گیا تو وہ میتھ کے نشے میں دھت تھے۔

سمگلنگ اور سازش کے الزامات ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔

اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث دو مزید افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکی میں غیر قانونی قیام کیا اور اپنے پاس ہتھیار رکھے۔ دونوں میکسیکو کے شہری ہیں۔

میکسیکو کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرک میں کل 67 تارکین وطن تھے جبکہ سین انٹونیو کے استغاثہ نے اس نمبر کو 64 ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جمعے کو بکسار کاؤنٹی کے میڈیکل آفیسر نے کہا کہ ہلاک ہونے والے 53 افراد میں سے چھ کی مکمل شناخت کر لی گئی ہے۔ جبکہ 42 افراد کی ممکنہ شناخت ہوئی ہے اور پانچ کی کوئی شناخت نہیں ہوسکی۔

متاثرین میں میکسیکو کے 27 شہری، ہونڈوراس کے 14، گواتیمالا کے سات اور سیلواڈور کے دو شہری شامل ہیں۔

Image shows truck by road

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جمعے کو بکسار کاؤنٹی کے شیرف کے دفتر نے کہا کہ انھوں نے 18 پہیوں والے ایک دوسرے لاوارث ٹرک کے حوالے سے تحقیقات شروع کی ہے جو اس سے قبل پیش آنے والے سانحے کے مقام سے کچھ میل دور پایا گیا۔ حکام نے سی بی ایس کو بتایا کہ اس واقعے میں 13 تارکین وطن ملے ہیں۔

شیرف کے دفتر نے فیس بک پر لکھا کہ ’ابتدائی طور پر کسی کو بھی کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ مزید معلومات ملنے پر اسے شیئر کیا جائے گا۔

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر انسانی سمگلنگ ایک بڑی صنعت ہے جسے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کے حکام مصروف نظر آتے ہیں۔ مئی میں میکسیکو سے آنے والے 239000 ایسے تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا تھا جن کے پاس دستاویزات نہیں تھے۔

ماضی میں بھی دنیا میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں انسانی سمگلنگ کے دوران بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں:

  • آسٹریا، 27 اگست 2015: ہنگری میں رجسٹرڈ ایک لاوارث ٹرک سے 71 عراقی، شامی اور افغان تارکین وطن کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ تین سال بعد اس کے الزام میں چار افراد کو ہنگری میں 25 سال قید کی سزا دی گئی۔
  • لیبیا، 20 فروری 2017: درجنوں افریقی تارکین وطن کو ایک شپنگ کنٹینر میں بند رکھا گیا جس سے 13 افراد سانس گھٹنے سے چل بسے۔
  • برطانیہ، 23 اکتوبر 2019: ویتنام سے آئے 39 تارکین وطن ایسکس میں ایک ٹرک میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ جنوری 2021 کے دوران اس الزام میں چار افراد کو قید کی سزا سنائی گئی تھی۔