صدر ٹرمپ کی امریکہ میکسیکو سرحد بند کرنے کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ممکمنہ طور پر امریکہ کی جنوبی سرحد بند کردیں گے اگر میکسیکو تارکین وطن کو امریکہ جانے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات نہیں اٹھاتا۔
سرحد کی بندش سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوگی بلکہ تجارت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی ایک ایسے وقت پر آئی ہے جب تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد امریکہ سفر کر کے آئی ہے اور پناہ کی طالب ہے۔
میکسیکو کے صدر آندریس مینوئل لوپیز نے کہا کہ وہ نہیں چاہیں گے کہ اس معاملے پر انھیں کسی تصادم کی جانب دھکیلا جائے۔
میکسیکو کے وزیر خارجہ مارسیلو ایبرارڈ نے ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ میکسیکو ایک ’عظیم ہمسایہ‘ ہے امریکہ کے لیے اور وہ ’ان دھمکیوں کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے کیا کہا؟
صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو جمعے کے روز بتایا کہ ’اس بات کے بہت امکانات ہیں کہ میں اگلے ہفتے سرحد بند کردوں اور یہ میرے لیے بالکل مناسب ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ میکسیکو کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ ’لوگوں کو یہاں آنے سے روک سکیں مگر وہ ایسا کرنے کا انتخاب نہیں کرتے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں متعدد ٹویٹس کیے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ ’بہت سارا پیسہ گنوا دیتا ہے خصوصی طور پر اگر اس میں منشیات کی سمگلنگ جیسے معاملات کو بھی شامل کیا جائے اور اسلیے سرحد کی بندش ایک اچھا اقدام ہوگا۔‘
میکسیکو کا رد عمل کیا تھا؟
صدر لوپیز نے جمعرات کو تارکین وطن کے معاملے پر کہا کہ ’ہم میکسیکنز کہ بس میں نہیں ہے۔ ‘ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو میکسیکو کے بجائے وسطی امریکی ممالک سے جنم لیتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’میکسیکو کا شہری اب ملازمت کے لیے امریکہ نہیں جاتا۔ بیشتر تارکین وطن دراصل دیگر دوسرے وسطی امریکی ممالک کے باشندے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر ٹرمپ کی جمعے کے روز ٹویٹس منظر عام پر آنے کے بعد صدر لوپیز نے حامیوں کے حجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم امریکی حکومت سے لڑنا نہیں چاہتے۔ امن اور محبت۔‘
انھوں نے تارکین وطن کے معاملے کو ایک ’انسانی حق‘ قرار دیا اور کہا کہ ’وسطی امریکہ میں لوگوں کے پاس کوئی راستہ نہیں اس لیے وہ روزی کمانے کے لیے دوسری جگہوں پر جاتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ سرحد بند کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹن نیلسن نے کہا کہ سرحدی فورس حیران ہے کہ پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد تشدد سے تحفظ کے لیے ایل سلواڈور، ہنڈورس اور گواتیمالا سے امریکہ آرہے ہیں۔
ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے حکام کے مطابق مارچ میں جن لوگوں کو سرحد پر گرفتار کریں گے ان کی تعداد ایک لاکھ ہوجائے گی جو اس دہائی کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔ ایک ہزار سے زائد ایسے بچے حراست میں ہیں جن کے والدین ان کے ساتھ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کرسٹن نیلسن نے کانگرس کو متنبہ کیا کہ امریکی حکومت کا نظام ایک ’وسیع پیمانے پر بحران‘ کا شکار ہے کیونکہ انھوں نے چھ ہزار سے زائد گھرانے جو ان کی حراست میں ہیں ان کی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ واضح نہیں کہ داخل ہونے کے راستوں کو بند کردینے سے کیا تارکین وطن کی تعداد میں کمی آئے گی کیونکہ بیشتر لوگ غیر سرکاری داخلی راستوں سے ملک میں داخل ہوتے ہیں اور امریکی زمین پر قدم رکھنے کے بعد قانونی طور پر مدد کی درخواست کرسکتے ہیں۔
ڈی ایچ ایس نے 750 سرحدی ملازمین کو داخلی راستوں پر تعینات کردیا ہے تاکہ وہ پناہ گزینوں کی درخواستوں کا جائزہ لے سکیں جو سرکاری داخلی راستے سے آتے ہیں۔
اس فیصلے کا اثر کیا پڑے گا؟
کرسٹن نیلسن نے امریکیوں کو خبردار کیا کہ وہ ’اس ہنگامی صورتحال کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔‘
امریکی سینسس بیورو کے مطابق سرحد کی بندش کا سنگین معاشی اثر پڑے گا جو امریکہ اور میکسیکو کے مابین سیاحت اور تجارت کو بھی متاثر کرے گا جس کا حجم گذشتہ سال 612 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سی سی ای نامی بزنس گروپ کے سربراہ کرٹ ہونولڈ نے کہا کہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔
کرٹ ہونولڈ کا کہنا تھا کہ ’یہ کافی واضح ہے کہ ان کو اس کے نتائج کا اندازہ نہیں۔‘
اس کا پس منظر کیا ہے؟
صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اس بات پر منحصر تھی کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، انھوں نے میکسیکو پر منشیات لانے، جرائم بڑھانے کا الزام لگایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا مقبول وعدہ کہ وہ سرحدی دیوار بنائیں گے اب تک پورا نہیں ہوا کیونکہ کانگرس اس کے پیسے نہیں دیتی۔ البتہ صدر نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے تاکہ فوج کو دیے جانے والے پیسے کا کچھ حصہ اس جانب جاسکے۔
سنہ 2016 میں جب صدر ٹرمپ کا انتخاب ہوا انھوں نے متعدد بار سرحد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔









