لاطینی امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم میں خواتین کا حقیقی کردار

- مصنف, مارکوس گونزالیز ڈیاز
- عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
ہونڈوراس میں ہرلینڈا بوڈیلا کی گرفتاری نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ یہ 61 سالہ خاتون کون تھی، جو مبینہ طور پر وسطی امریکہ میں منشیات کے ایک اہم کارٹیل کی رہنما بن چکی تھی۔
’لا چنڈا‘ کے بارے میں عوامی طور پر بہت کم جانا جاتا تھا، باوجود اس کے کہ اسے ایک ایسے قبیلے کا سربراہ سمجھا جاتا ہے جس پر کئی ٹن کوکین امریکہ بھیجنے کا الزام ہے۔ امریکہ نے اس کی گرفتاری کے لیے پانچ ملین امریکی ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کر رکھا تھا۔
منظم جرائم میں خواتین کے کردار کو عام طور پر مرد سمگلروں کے ساتھی، رشتہ دار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یا ایک ایسے شخص کے طور پر جو تقریباً غیر ارادی طور پر اور جبری طور پر اس کا حصہ بن جاتا ہے۔
لیکن کیا یہ ہمیشہ ہی ایسا ہے؟ منظم جرائم میں خواتین کا اصل کردار کیا ہے؟ کیا واقعی ان کے بارے میں بہت کم جانا جاتا ہے یہ غیر معروف خواتین کون ہیں؟
بی بی سی منڈو نے ایک برطانوی صحافی ڈیبورا بونیلو کا انٹرویو کیا ہے جو تقریباً 20 سال سے لاطینی امریکہ میں مقیم ہیں اور خطے میں منظم جرائم کی تحقیقات کر رہی ہیں۔
صحافی ڈیبورا بونیلو نے گذشتہ چار برسوں میں ان گروپوں میں خواتین کے کردار کے بارے میں تحقیق کی ہے جسے انھوں نے ’ کارٹیل مالکان کی خفیہ تاریخ‘ کے عنوان سے ایک وسیع رپورٹ کے طور پر شائع کیا ہے۔

آپ نے منظم جرائم میں خواتین کے کردار کی تحقیقات کا فیصلہ کیوں کیا؟
میں نے 15 سال قبل میکسیکو پہنچنے کے بعد بطور صحافی اس موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ تاہم، میں نے دیکھا کہ اس موضوع پر خواتین کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ جھوٹے دقیانوسی تصورات ہیں جو ہمارے ہاں جنس کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔
آپ کے خیال میں اس دقیانوسی تصور کی وجہ کیا ہے؟
ان معاملات پر لکھنے والے صحافیوں میں سے زیادہ تر مرد ہیں۔ میں مرد صحافیوں پر تنقید نہیں کرنا چاہتی ہے لیکن ان کا چیزوں کو دیکھنے کا اپنا زوایہ ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ عام طور پر مرد یہ سوچتے ہیں کہ ان گروہوں کا انچارج کون ہے اور طاقت کے ڈھانچے کیسے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی تحقیقات میں خواتین کے کردار پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا ان گروہوں میں خواتین کے کردار کے بارے میں ہماری معلومات غلط ہیں؟
جرم کرنے کی خواہش صرفت مردوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ مرد اور عورتوں میں آتشیں اسلحے کو سنبھالنے اور جرائم کا ارتکاب کرنے کی صلاحیت ایک جیسی ہے۔ لیکن خواتین کو ہمیشہ مظلوم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے یا تو شوہر نے مجبور کیا تھا۔ میری تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ دنیا عورتوں کو اسی کردار میں دیکھنا چاہتی ہے۔
لاطینی امریکہ، اور خاص طور پر میکسیکو میں، ’ماما‘ کی اس روایتی شکل اور ایک اسلحہ اٹھائے عورت جو قتل کرتی ہے اور مختلف مردوں سے تعلقات رکھتی ہے، کے درمیان ایک تصادم ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وہ اسلحہ اٹھانے والی عورت کو نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ یہ ان کے لیے مشکل ہے۔ اس خیال کے مطابق منشیات کا سمگلر مرد ہوتا ہے۔
خواتین کے جرائم کی دنیا میں آنے کے محرکات مختلف ہیں؟
معلوم نہیں یہ سوچ کیوں ہے کہ خواتین کو طاقت اور رتبہ نہیں چاہیے۔ یہ ایک افسانہ ہے، مردوں کی طرح، عورتیں بھی طاقت اور پیسہ چاہتی ہیں۔۔۔ بہت سی خواتین نے مجھے بتایا کہ انھیں ’ایڈرینالین رش‘ پسند ہے جو اس وقت آتا ہے جب کوئی جرم کی اس دنیا میں آنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ کچھ نے ایسا اس لیے کیا کہ بندوق ان کے سر پر رکھی گئی۔
ان علاقوں میں جہاں وہ رہتی تھیں وہ مردوں کے غلبہ والے علاقے ہیں جہاں انھیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے زیادہ چیلنجز درپیش ہیں، ان کے لیے تشدد ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ عزت حاصل کر سکتی ہیں۔
ان حالات میں کچھ لوگ چھلانگ لگاتے ہیں اور لوگوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ خواتین ان عہدوں پر اس وقت فائز ہوتی ہیں جب ان کے شوہروں کو حراست میں لیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ خواتین وسطی امریکہ کے ان علاقوں میں رہتی تھیں جہاں بہت زیادہ غربت تھی اور جہاں کوکین کا بہاؤ مسلسل رہتا ہے، اس لیے یہ ان کے لیے ایسے کاروبار کی طرف راغب ہونے میں آسانی ہے جہاں وہ ایک بار اتنی رقم بنا سکتی ہیں کہ باقی زندگی انھیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
یہ بھی ٹھیک ہے کہ ان میں سے کچھ خواتین اپنے بچوں کی پرورش کرنا چاہتی تھیں، لیکن وہ ایک کار اور لگژری بھی چاہتی تھیں۔
کئی کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ لوز فجردو قانون کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔۔۔ وہ اتنے محدود وسائل والی خواتین نہیں تھیں۔ وہ منشیات کے کاروبار میں اس لیے آئیں کیونکہ وہ ایسا چاہتی تھیں۔ ان پر کوئی لازم نہیں تھا کہ وہ اس طرف آتیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ کی کہانیوں کی تحقیق کے بارے میں سب سے مشکل چیز کیا تھی؟
سب سے پہلے، ان کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں، لہذا مجھے تقریباً شروع سے شروع کرنا پڑا۔
دوسرا یہ کہ ان میں سے زیادہ تر امریکہ کی جیلوں میں ہیں یا اس ملک میں رہنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ بات نہیں کرنا چاہتیں۔ اس لیے مجھے عدالتی دستاویزات میں بہت کچھ تلاش کرنا پڑا، ان کے جاننے والوں اور رشتہ داروں سے بات کرنے کے لیے ان کے پاس جانا پڑا۔
بہت سے لوگ سوچیں گے کہ اگر ان کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات نہیں ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ کارٹیل کے اندر اتنی اہم نہیں تھیں۔ میرے خیال میں بات یہ نہیں ہے کہ ایل چاپو کا کوئی زنانہ ورژن موجود ہے اور اگر ہوتا تو شاید ہمیں معلوم نہ ہوتا کیونکہ میڈیا اسے دیکھنا نہیں چاہتا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آپ نے اپنی تحقیق کے لیے ان چھ خواتین کا انتخاب کیوں کیا؟
اس خطے میں اور بھی طاقتور خواتین ہیں جیسے اینڈینا یا کرسیلڈا بلانکو جن کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس لیے میں خود کو دہرانا نہیں چاہتی تھی۔.
اس کے علاوہ، میں زیادہ عصری خواتین کا انتخاب کرنا چاہتی تھی، کیونکہ میں 90 اور 2000 کی دہائی کے نارکو کو 70 اور 80 کی دہائی کے مقابلے بہتر سمجھتی ہوں۔
میں نے بھی ان کا انتخاب یہ سوچ کر کیا کہ کیا ان کے قریبی لوگ مجھے ان کے بارے میں بتائیں گے اور میں معلومات حاصل کر سکوں گی۔ اور میرے خیال میں یہ اس وقت آسان ہے جب وہ جیل میں ہوں یا کسی ایسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں جو پہلے ہی ختم کر دی گئی ہو۔ ان چھ خواتین کا انتخاب کرتے وقت اس سب نے مجھے متاثر کیا۔.

لاطینی امریکہ کے چھ خواتین منشیات سمگلرز کون؟
ڈیگنا ویلے، ہونڈورس

،تصویر کا ذریعہOficina del Alguacil de Broward
شمال مشرقی ہونڈورس میں کوپن کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں ڈیگنا ویلے ایک منشیات فروش خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان کوکین کی منشیات کی سمگلنگ کے لیے مشہور تھا۔ ڈیگنا ویلے تیرہ بہن بھائیوں میں سے ایک تھی۔
2014 میں امریکی شہر میامی میں گرفتار ہونے کے بعد، ڈیگنا ویلے نے منشیات کی سمگلنگ کے الزامات کو قبول کیا اور حکام کے ساتھ تعاون کیا۔ ان کی معلومات پر ان کے دو بھائیوں کی گرفتاری ممکن ہوئی جنھیں امریکہ کے حوالے کیا گیا جہاں انھیں بھی سزا سنائی گئی تھی۔
صحافی ڈیبورا بونیلو بتاتی ہیں کہ ’میں نے ڈینگنا ویلے سےجیل میں ویڈیو کال کے ذریعے بات کی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ہنڈوراس واپس آنے سے نہیں ڈرتی۔ انھوں نے عوامی سطح پر کام کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ خود کو حکام کی طرف سے محفوظ محسوس کرتی ہے۔‘
ماریکسما لیمس، گوئٹے مالا

،تصویر کا ذریعہCortesía Prensa Libre
40 سالہ ماریکسا لیمس کو ’لا پیٹرونا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ وہ دو بار جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ پہلی بار 2016 میں وہ جیل کی دیوار پھلانگ کر فرار ہوئیں۔ انھیں چند گھنٹوں میں ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
دوسری بار وہ ایک فوجی جیل سے سیکیورٹی گارڈ کی وردی میں فرار ہوئیں اور انھیں دو ہفتے بعد ا ایل سلواڈور میں گرفتار کر لیا گیا۔
ان کی منشیات کی سلطنت ایل سلواڈور کے ساتھ سرحد پر واقع گوئٹے مالا کی میونسپلٹی مویوٹا کے آس پاس تھی جو منشیات کے راستے پر ایک سٹریٹجک نقطہ ہے جو وسطی امریکہ سے امریکہ تک گردش کرتی ہے۔ ان کا خاندان، جو اپنے پرتشدد اور خونی طریقوں کے لیے جانا جاتا ہے، مقامی سیاست میں بڑی طاقت رکھتا تھا۔
ان کا بھائی مویوٹا کا میئر تھا جو 2011 میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا۔ 2011 میں، ان کی بہن مائرہ میئر کے عہدے کے لیے انتخاب میں کھڑی ہوئیں اور انھیں سات دیگر افراد کے ساتھ قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ ایک حملے میں بچ گئی تھی جس میں ماریکسا کی 17 سالہ بیٹی، ماری گئی تھی۔
2014 میں اسے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ فرار ہونے کی اپنی دو کوششوں کے بعد، وہ اپنی سزا بھگت رہی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
صحافی ڈیبورا بونیلو کے مطابق ’میں نے جیل میں ماریکسا کا انٹرویو کیا۔ میں ان کے کردار سے متاثر ہوئی، ان میں تشدد کی بے پناہ صلاحیت ہے جسے وہ چھپاتی نہیں ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے حریف سے اپنے خاندان کا بدلہ لیں گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
سبسشین کوٹن واسکیوز، گوئٹے مالا

،تصویر کا ذریعہDpto. Justicia EE.UU.
سبسشین کوٹن واسکیوز نے اپنی ابتدائی زندگی ایک غریب کسان کے طور پر گزاری۔ وہ گوئٹے مالا-میکسیکو کی سرحد پر مالاکاتن قصبے میں رہتی تھیں اور وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں۔
اپنے پانچ بچوں کے باپ کی طرف سے چھوڑ دیئے جانے کے بعد انھوں نے ایک مقامی منشیات فروش سے شادی کی۔ جب اسے قتل کر دیا گیا تو انھوں نے کاروبار سنبھالا اور پھر ہزاروں کلو کوکین کی سمگلنگ کی معمار بن گئی۔
کوٹن، لورینزانا برادران کی پارٹنر تھیں جو اس وقت گوئٹے مالا میں منشیات کے سب سے طاقتور سمگلروں میں سے ایک تھا۔
کوٹن کا ہنڈوراس میں ڈیگنا ویلے کارٹیل سے تعلق تھا اور وہ سینالووا ڈیل چاپو کارٹیل کے ساتھ کام کرتی تھیں۔ 2014 میں انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا، جہاں انھوں نے اپنا جرم قبول کیا۔
صحافی ڈیبورا بونیلو بتاتی ہیں ’میں نے سبسشین کوٹن کے جاننے والوں کا انٹرویو کیا اور وہ اس سے بہت خوفزدہ تھے۔ وہ ایک متاثر کن کردار کی حامل خاتون ہے۔‘
مارلوری چاکن راسل، گوئٹے مالا

،تصویر کا ذریعہDpto. Tesoro EE.UU.
مارلوری چاکن کا تعلق اگرچہ کہ گوئٹے مالا کے ایک دیہی خاندان سے تھا لیکن وہ ایک ذہین کاروباری صلاحیت رکھنے والی خاتون تھیں جنھوں نے نفسیات میں تعلیم حاصل کی۔ ان کو بعد میں ’جنوب کی ملکہ‘ کا لقب ملا۔
منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے سے پہلے انھوں نے منی لانڈرنگ میں نام کمایا۔ امریکی فرد جرم کے مطابق سالوں بعد انھوں نے منشیات سمگلنگ سے حاصل منافع کے دس ملین ڈالر ماہانہ کے اعتبار سے لانڈر کیے۔ وہ گوئٹے مالا میں ہوتے ہوئے ہنڈوراس اور پانامہ تک تعلقات بنا کر رکھے ہوئے تھیں اور میکسیکو تک گروہوں کو کوکین فراہم کر رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ان کو لاطینی امریکہ کی سب سے کامیاب منشیات سمگلر قرار دیا۔
وہ سیبیسشیئن کوٹن کی اتحادی بنیں جن کو 2014 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اسی سال مارلوری نے بھی گرفتاری دے دی اور امریکہ کے ساتھ تعاون کی وجہ سے 2019 میں ان کو رہا بھی کر دیا گیا۔
صحافی بونیلو کے مطابق ’مارلوری مردوں کی دنیا میں ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں حالانکہ اس دنیا میں منشیات کی خرید و فروخت کرنے والے عورتوں سے بات چیت کے قائل نہیں تھے لیکن مارلوری پھر بھی اس بزنس میں ملوث ہوئیں کیوں کہ ان کو اس میں دلچسپی تھی۔‘
گواڈلوپے فرنینڈیز (میکسیکو)

،تصویر کا ذریعہPolicía Federal de México
سینالوا کارٹیل کی سب سے اعلیٰ ترین خاتون کارکن ہونے کے باوجود گواڈلوپے فرنینڈیز کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ لیکن ان کا نام آٹھ افراد کی اس فہرست میں موجود ہے جنھوں نے ایل چاپو کو جیل بھجوانے میں مدد کی۔
گواڈلوپے فرنینڈیز کا تعلق میکسیکو سے ہے اور وہ کم از کم تین دہائیوں تک منشیات کے کاروبار میں ملوث رہیں۔ وہ پہلے بنا دستاویزات کے امریکہ پہنچیں جہاں ان کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں ملک بدر کر دیا گیا۔
میکسیکو واپسی پر انھوں نے سینالوا کارٹیل میں ایل چاپو کے ایک بیٹے جیسز الفریڈو کے نائب کے طور پر کام شروع کیا جو اب تک مفرور ہیں۔۔

،تصویر کا ذریعہDpto. Tesoro EE.UU.
گواڈلوپے فرنینڈیز کو جنوری 2016 میں ایل چاپو کی آخری بار گرفتاری کے ایک ماہ کے اندر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ انھوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کو تسلیم کیا جس کے بعد ان کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس وقت ان کی عمر 61 برس تھی۔
صحافی بونیلو کے مطابق مقدمے کے دوران ’گواڈلوپے فرنینڈیز نے بہت عاجزی کا تاثر دینے کی کوشش کی اور اپنے بچوں اور پوتوں کے بارے میں بات کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسے تنظیم کے لیے کام کرتی تھیں جو بہت پرتشدد تھی اور انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا۔‘
بونیلو کے مطابق ’وہ کوئی سادہ لوح خاتون نہیں تھیں جن کو معلوم نہ ہوتا کہ وہ کس کام میں پڑ رہی ہیں اور جس حد تک انھوں نے تنظیم میں جگہ بنائی وہ بھی متاثر کن ہے۔‘
لز ایرین کامپوس (میکسیکو)

،تصویر کا ذریعہDpto. Justicia EE.UU.
لز کامپوس ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی وکیل تھیں جن کا خاندان پیشے کے اعتبار سے کاشتکار تھا اور دیہی سینالوا سے تعلق رکھتا تھا۔ انھوں نے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ منشیات کے کاروبار میں قدم رکھا۔
انھوں نے اپنے بین الاقوامی منشیات کے کاروبار کا آغاز کیا جو 2016 تک سینالوا کارٹیل کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن اس تنظیم کا حصہ نہیں بنا۔
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے لاطینی امریکہ اور میکسیکو سے کولمبیا کے راستے بڑی تعداد میں کوکین امریکہ برآمد کی۔
ان کو 2017 میں کولمبیا سے گرفتار کیا گیا اور پھر امریکہ لایا گیا۔ اسی دوران ان کے دونوں بیٹوں کی مسخ شدہ لاشیں میکسیکو میں منظر عام پر آئیں۔ اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ ان کے بیٹوں کو ان کے مخالف گینگ نے قتل کیا یا پھر یہ ان کے لیے خاموش رہنے کا پیغام تھا۔
لز کامپوس نے فرد جرم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ گزشتہ سال ان کو 22 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بونیلو کے مطابق ’اپنے پیشے اور خاندان کی وجہ سے ان کے پاس اور مواقع موجود تھے لیکن پھر بھی انھوں نے منشیات کے کاروبار کا انتخاب کیا۔ ان کے وکلا کے مطابق ان کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں۔‘
بونیلو کے مطابق ’ان کے بیٹوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے بعد انھوں نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا اور کسی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ بہت سی خواتین اس بارے میں سوچتی ہیں کہ ان کے بیان کا ان کے خاندان پر کیا اثر پڑے گا۔‘
’کیا مردوں کے لیے بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو باپ اور شوہر بھی ہوتے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔‘












