انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن: بہتر زندگی کی تلاش میں ’موت کی کشتیوں‘ پر سفر

،تصویر کا ذریعہSri Lanka Navy
- مصنف, سونیتھا پریرا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
’ہمیں بتایا گیا کہ اس سے قبل کشتی پر سوار پانچ افراد بخار اور سی سِکنس (سمندری سفر کی بیماری) سے ہلاک ہوئے اور انھیں سمندر میں ہی پھینک دیا گیا۔‘
سری لنکا سے غیر قانونی طور پر کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے والے شیوا نے بتایا کہ ’ہم میں سے ایک شخص بیمار ہوگیا تھا اور وہاں ادویات دستیاب نہیں تھیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ساتھ شراب لائے تھے۔ موت کے خوف سے بچنے کے لیے میں شراب کے نشے میں دھت تھا۔‘
یہ 2012 کی بات ہے جب مئی 2009 میں سری لنکا کی مسلح فوج کی جانب سے تامل ٹائیگرز کو دی گئی شکست کو تین سال گزر گئے تھے اور 30 سال طویل خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے تیس سال تک مشکلات جھیلیں جس سے ہمیں غربت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کی وجہ سے مجھے شراب کی لت لگ چکی تھی۔‘
شمالی سری لنکا میں دو بچوں کے والد شیوا کہتے ہیں کہ ’اس وقت ایک دوست نے پوچھا کہ کیا میں اس کے ساتھ بذریعہ کشتی آسٹریلیا جانا چاہوں گا۔‘
جنگ کا خوف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس خونی لڑائی کے دوران شمال اور مشرقی سری لنکا میں کئی تامل شہری جسمانی اور نفسیاتی طور پر زخمی ہوچکے تھے۔
’اس وقت کئی لوگ غیر قانونی طور پر کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا گئے تھے۔ سب انتظامات ایک بروکر نے کیے جسے میں اپنے دوست کے ذریعے ملا تھا۔ اس نے پورے سفر کے لیے 10 لاکھ روپے (اس وقت کے حساب سے قریب آٹھ ہزار ڈالر) اور ایڈوانس پانچ لاکھ روپے مانگے۔
شیوا کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کے زیورات بیچ کر پیسے جمع کیے۔ ان پر بہت زیادہ قرض چڑھ چکا تھا کیونکہ انھوں نے بڑے سود پر قرض اٹھایا تھا۔
سمگلنگ کا مرکز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مغربی سری لنکا میں ساحلی شہر نیگومبو آسٹریلیا اور اٹلی کے لیے لوگوں کی سمگلنگ کا مرکز رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیگومبو میں ایک کشتی کے مالک جوڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران سینکڑوں لوگوں کو آسٹریلیا اور اٹلی سمگل کیا۔
وہ فخر سے بتاتے ہیں کہ ’90 کی دہائی کے دوران میں نے 130 لوگ اٹلی سمگل کیے۔ یہ دو انجن والی کشتی تھی۔‘
ان کے مطابق زیادہ لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے سمگلر ایسی افواہیں استعمال کرتے ہیں کہ آسٹریلیا جیسے ملکوں میں تارکین وطن کے لیے پالیسی میں تبدیلی ہوئی ہے۔ ’اگر ہم سنتے ہیں کہ ان ممالک نے تارکین وطن پر سختیاں ہٹا دی ہیں تو ہمیں ایک خلا نظر آتی ہے۔‘
’جلد کشتی پر کھانا اور پانی رکھ لیا جاتا ہے اور اس میں ایندھن بھر لیا جاتا ہے۔‘
اقوام متحدہ کی 2020 کی ٹریفکنگ اِن پرسنز کی عالمی رپورٹ کے مطابق 2018 میں 46 فیصد متاثرین خواتین اور 19 فیصد لڑکیاں تھیں۔ رپورٹ کے مطابق 20 فیصد متاثرین مرد تھے جبکہ 15 فیصد لڑکے۔

جود خود ان مسافروں کو نہیں ڈھونڈتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بروکر ایسے لوگ لاتے ہیں۔ جب وہ پیسوں کا پوچھتے ہیں تو ہم پانچ لاکھ روپے (موجودہ کرنسی ریٹ کے تحت قریب 1400 ڈالر) بتاتے ہیں۔ بروکر بھی لوگ ڈھونڈنے پر پانچ لاکھ روپے اپنے لیے رکھتے ہیں۔‘
’پورے ملک سے بروکر ایسے 10 سے 15 لوگوں پر مشتمل گروہ بنا لیتے ہیں۔ اس طرح کل لوگوں کی تعداد قریب 50 ہوجاتی ہے۔ اس کاروبار میں سب سے زیادہ منافع بروکر کا ہوتا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم کشتی کا کپتان ڈھونڈتے ہیں اور اس کی مدد کے لیے چار سے پانچ افراد کے عملے کا انتظام کرتے ہیں۔ ہم کشتی کو اسی کپتان کے نام رجسٹر کر دیتے ہیں تاکہ واپسی یا ٹریسنگ نہ ہوسکے۔ عملے کے لوگ باقی ٹیم کے ساتھ ساحل پر پہنچ جاتے ہیں۔‘
یہ ایک یکطرفہ سفر ہے جس میں نہ صرف مسافر بلکہ کشتی کا عملہ بھی دوسرے ملک پناہ لینے کے مقصد سے جاتا ہے۔
بہتر زندگی کا خواب

،تصویر کا ذریعہSri Lanka Navy
جوڈ کا کہنا ہے کہ کشتی پر نہر سوئز کے ذریعے اٹلی کے پانیوں تک پہنچنے میں 25 سے 30 دن لگتے ہیں۔ جبکہ آسٹریلیا پہنچنے میں 10 سے 15 دن لگتے ہیں۔ لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
شیوا کا کہنا ہے کہ انھیں چھ دیگر لوگوں کے ساتھ سفر کرنے سے قبل 10 لاکھ روپے جمع کرانے کا کہا گیا تھا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد بھی سینکڑوں تام شہریوں کو شمالی سری لنکا میں جبری لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ اس دوران انسانی حقوق کے کئی کارکنوں اور صحافیوں پر تشدد کیا گیا یا انھیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
حکومت نے جبری گمشدگیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔ سال 2009 سے قبل دونوں فریقین پر تشدد کا الزام لگایا گیا۔ تاہم تامل ٹائیگرز کی شکست کے بعد بھی لاپتہ کیے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔
جبری گمشدگیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’سری لنکا میں جنگ کے بعد مجھے لگا کہ کشتی پر موت سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘ تاہم شیوا نے جب کچھ عرصہ سمندری سفر میں گزارا تو انھیں گھر میں اپنی بیوی اور بچے یاد آنے لگے۔ ’میں نے بارے میں سوچنے سے خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔‘
22 دن بعد شیوا اور دیگر لوگ آسٹریلیا کے پانیوں میں داخل ہوگئے۔
ناورو اور کرسمس جزیرے سمیت کئی مقامات پر آسٹریلوی پانیوں میں تارکین وطن کی کشتیوں کی نشان دہی کی گئی۔
شیوا کا کہنا ہے کہ انھیں کرسمس جزیرے پر زیر حراست رکھا گیا جب تک ان کا کیس نہیں سنا گیا تھا۔
’زیر حراست لوگ، جن میں سے کچھ کیمپ میں کئی مہینوں یا برسوں سے موجود تھے، نے بتایا کہ اگر مجھے آسٹریلیا رہنے کی اجازت مل بھی گئی تو میں اپنے بیوی بچوں کو یہاں نہیں لا سکوں گا۔ اگر کوئی امکان تھا بھی تو اس میں کئی سال درکار تھے‘
تیس دن بعد انھیں اور 13 دیگر افراد کو سری لنکا ڈی پورٹ کر دیا گیا کیونکہ ’ان کے کیس اتنے مضبوط نہیں تھے۔‘

جوڈ کے مطابق سمگلرز نے کئی برسوں سے اٹلی کے لیے انسانی سمگلنگ مکمل طور پر روک دی ہے کیونکہ اس پر زیادہ خرچ آتا ہے اور تارکین وطن کی آمد پر سختیاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ سال قبل تک لوگوں کو آسٹریلیا سمگل کرنا آسان تھا لیکن اب یہ مشکل کام بن گیا ہے۔‘
’ہمیں کوئی پچھتاوا نہیں کیونکہ یہ لوگ خود آتے ہیں اور ہمیں پیسے دیتے ہیں۔ وہ بہتر زندگی کے لیے خطرہ مول لیتے ہیں۔ کشتی کے مالک کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ آیا وہ ساحل پر رُکے گی یا کسی حراستی مرکز جائے گی۔ انھیں پہلی ہی اس سفر کے خطرات کا علم ہوتا ہے۔‘
’پہلے ہمارے پاس صرف مرد آیا کرتے تھے۔ لیکن اب مزید خاندان اور چھوٹے بچے سمگل ہونے کے پیسے دیتے ہیں۔‘
بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے جان بوجھ کر قانون توڑا اور لوگوں کو اس میں پھنسایا۔ جوڈ کا کہنا تھا کہ انھیں بُرا لگا کہ انھوں نے خواتین اور بچوں کو اس مشکل سفر پر روانہ کیا۔
خواتین اور بچے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر پچھتاوے سے زیادہ جوڈ کا خیال ہے کہ وہ تو ان کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ ’اگر ہم 50 لوگ بھیجتے ہیں تو ہم اکثر قریبی گاؤں کے نوجوانوں کو جگہ دیتے ہیں جو اس سفر پر جانے کے پیسے نہیں دے سکتے۔‘
لیکن خوابوں کی تعبیر کا یہ سفر اتنا آسان نہیں ہے۔
جوڈ تسلیم کرتے ہیں کہ مجبوری اور آگاہی سے لاعلمی زیادہ تر لوگوں کو سمگل ہونے کی طرف دھکیل دیتی ہے کیونکہ انھیں ترک وطن کے قانونی راستے معلوم نہیں ہوتے۔
جوڈ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو ہمارے بارے میں دوسرے لوگوں سے پتا چلتا ہے۔ وہ ایسے لوگوں کے بارے میں سنتے ہیں جو بذریعہ کشتی آسٹریلیا گئے، ویزا ملا اور اب اچھے پیسے کما رہے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ لوگ صرف وہ چیز دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
سمگل ہونے والوں کی تعداد میں تیزی

سری لنکن بحریہ کے مطابق رواں سال ایسے لوگوں کی تعداد بڑھی ہے جو بذیعہ کشتی سری لنکا جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بحریہ کے ترجمان انڈیکا ڈی سلوا نے بی بی سی کو بتایا کہ جولائی 2022 تک 864 لوگ کشتی پر آسٹریلیا جاتے ہوئے پکڑے گئے جبکہ 15 کشتیاں ضبط کی گئیں۔
جبکہ چار کشتیوں پر 137 سری لنکن شہری، جن کی چار کشتیاں آسٹریلوی سرحد پر روکی گئیں، کو پروازوں سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔
بحریہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ 2020 میں کووڈ کی عالمی وبا کے دوران کوئی کشتی نہیں پکڑی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہSri Lanka Navy
سری لنکن بحریہ کے مطابق 2021 اور 2022 میں کینیڈا جانے والی دو کشتیاں روکی گئی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ بروکر ان غریب اور مجبور خاندانوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ وہ آسٹریلیا جیسے ملکوں میں جا کر بہتر زندگی جی سکیں گے اور امیر ہوجائیں گے۔
کیپٹن انڈیکا ڈی سلوا نے کہا کہ سمگلر اکثر سمگل ہونے والوں سے کہتے ہیں کہ خاندان کے ہمراہ جانے قانونی طور پر فائدہ مند ہے۔ ’کشتیوں پر خاندانوں اور چھوٹے بچوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سمگلر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ کچھ ملکوں میں انسانی حقوق کے قوانین ایسے ہیں کہ اس سے فائدہ ہوتا ہے۔‘
بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ سری لنکن بحریہ اور آسٹریلوی بارڈر فورس غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔
سری لنکا واپسی کے بعد سے شیوا اب شراب نہیں پیتے اور انھوں نے قرضوں کی ادائیگی کے بعد اپنا خود کا کاروبار بھی شروع کر لیا ہے۔
کھانا، ایندھن اور ادویات کی عدم فراہمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سری لنکن معیشت ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کی تاریخی کمی کے بعد شدید بحران سے دوچار ہے۔ حکومت کے پاس کھانا، ادویات اور ایندھن خریدنے کے پیسے نہیں اور قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
پیٹرول پمپ پر شہریوں کی کئی میل لمبی قطاریں ہیں جہاں ڈرائیور کچھ لیٹر پیٹرول کے لیے گاڑیوں میں سو رہے ہوتے ہیں۔
معاشی بحران کے دوران شمالی سری لنکا سے پڑوسی ملک انڈیا جانے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔
’سری لنکا کے موجودہ حالات میں، میں واپس وہاں (آسٹریلیا) جانے کا سوچتا ہوں۔ پہلے جنگ کی وجہ سے اور اب معیشت کی وجہ سے۔ ملک میں کھانا، ایندھن اور ادویات کچھ نہیں ہے۔‘
(اس تحریر میں سمگلر اور سمگل ہونے والے افراد کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔)










