صندل کی لکڑی کے 20 ’سمگلروں‘ کی ہلاکت، تحقیقات کا حکم

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت میں حقوقِ انسانی کے کمیشن نے گزشتہ ہفتے صندل کی لکڑی کے 20 مبینہ سمگلروں کی ہلاکت کے بعد دو عینی شاہدوں کی گواہی سن کر اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ان دونوں عینی شاہدوں نے پولیس کے بیان کو غلط قرار دیا ہے کہ صندل کی سرخ لکڑی کے مبینہ سمگلر پولیس پر حملے یا فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔ گواہوں کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ہلاکتیں ’جعلی پولیس مقابلے‘ کے دوران ہوئیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
حقوقِ انسانی کے قومی کمیشن نے حکم دیا ہے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ان دونوں چشم دید گواہوں کی حفاظت کا انتظام کیا جائے جو ایک مقامی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔
حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی اور چشم دید گواہ بھی سامنے آنے اور اس الزام کی حمایت میں بیان دینے پر تیار ہیں کہ سات اپریل کو آندھرا پردیش کے مقدس قصبے تِروپاٹی کے قریب ہونے والا پولیس مقابلہ جعلی تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
پولیس کہتی ہے کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب صندل کی سرخ لکڑی کے 100 افراد پر مشتمل سمگلروں کے ایک گروپ کو للکارا گیا جس پر انھوں نے پولیس کو پتھروں کا نشانہ بنایا اور کلہاڑیوں سے ان پر حملہ کر دیا۔
بھارت کے جنوب میں صندل کی لکڑی کی سمگلنگ بہت زیادہ ہے اور بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں ایک ٹن لکڑی دسیوں ہزار ڈالر میں فروخت ہوتی ہے۔ سرخ صندل بھارت کے مغرب میں پائے جانے والی درخت کی ایک قسم ہے ۔ یہ درخت اپنی بہترین سرخ لکڑی کی وجہ سے بہت قیمتی ہے جس سے زیادہ تر فرنیچر تیار کیا جاتا ہے۔ سنہ 2000 میں بھارت نے صندل کی سرخ لکڑی کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔
مغربی بھارت میں پائے جانے والے درخت جس سے صندل کی لکڑی کا فرنیچر تیار ہوتا ہے، صندل کے ان درختوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں جو جنوبی بھارت میں پائے جانے والے انتہائی خشبودار درخت کہلاتے ہیں۔
خیال ہے کہ سات اپریل کو ہونے والے اس واقعہ میں ہلاک شدگان کی اکثریت تاملوں کی تھی جس کی وجہ سے بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں ان ہلاکتوں پر شدید ردِ عمل کا اظہار کا اظہار کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







