انکاؤنٹر کی سیاست

آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں دو مختلف مقابلوں میں 25 افراد کی ہلاکت پر احتجاج بھی ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآندھرا پردیش اور تلنگانہ میں دو مختلف مقابلوں میں 25 افراد کی ہلاکت پر احتجاج بھی ہوا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

آندھرا پردیش کی پولیس نے گذشتہ ہفتے چتور کےجنگلوں میں 20 غریب لکڑہاروں کو جس طرح گولی مار کر ہلاک کیا ہے وہ انتہائی تشویش کا سبب بن گیا ہے۔

بھارت کے ٹی وی چینلوں اور اخبارات نے روایت کے مطابق پولیس کی فراہم کی گئی معلومات کو خبر بنا کر پیش کیا اور یہ خبر شائع کی گئی کہ پولیس نے جنگل میں صندل کی لکڑی کے سمگلروں سے تصادم میں 20 سمگلوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کا یہ بیان کئی تضادات اور واقعاتی شہادتوں کی وجہ سے ابتدا سے ہی مشکوک ہوگیا تھا اور نئے شواہد سامنے آنے کے بعد آندھرا ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا ان ہلاکتوں کے لیے پولیس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے؟

کسی جمہوری ملک میں اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلح افراد کو ہلاک کر دینا اور حکومت اور پولیس کے ذریعے اسے جائز ٹھہرایا جانا یقیناً ایک خطرناک روش ہے۔

یہ واقعہ اس لیے بھی خبروں میں رہا کہ انھیں مارنے والی پولیس آندھرا کی تھی اور مارے جانے والے بیشتر لکڑہارے پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے تھے جہاں اس واقعے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

جس دن یہ واقعہ ہوا اسی دن کچھ ہی دوری پر تلنگانہ پولیس نے اپنی تحویل میں پانچ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ سبھی مسلمان تھے اور انہیں ایک ضلع سے ایک مقدمے کی سماعت کے لیے حیدرآباد لے جایا جا رہا تھا۔

ان پانچوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں اور انھیں پولیس کی وین میں زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا تھا اور 17 مسلح اہلکاروں کے پہرے میں لایا جا رہا تھا۔

آندھرا پولیس کا یہ بیان کئی تضادات اور واقعاتی شہادتوں کی وجہ سے ابتدا سے ہی مشکوک ہو گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآندھرا پولیس کا یہ بیان کئی تضادات اور واقعاتی شہادتوں کی وجہ سے ابتدا سے ہی مشکوک ہو گیا تھا

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایک ویران مقام پر ان پانچوں نے فرار ہونے کی کوشش کی اور پولیس کے ہتھیار چھین لیے جس پر اپنے دفاع میں پولیس اہلکاروں نے ان پانچوں افراد کو گولی مار دی۔

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کچھ تصویریں شا‏ئع ہوئی ہیں جن میں سے ایک مقتول ہتھکڑیاں پہنے ہوئے اور زنجیر سے بندھا اپنی سیٹ پر مردہ بیٹھا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ کے اوپر ایک بندوق رکھی ہوئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس واقعے کو دن دہاڑے قتل کا واقعہ قرار دیا ہے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کی خبر بھارتی ذرائع ابلاغ میں مشکل سے ہی نظر آتی ہے ۔

مسلم دانشور اور کارکن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا کہنا ہے سکیورٹی ایجنسیاں اس طرح کے فرضی تصادموں کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں میں جس طرح سینکڑوں بےقصور مسلم نوجوانوں کو دہشتگردی کے جھوٹے معاملات میں جیل میں ڈالا گیا اس سےایسا لگتا ہےکہ یہ مسلمانوں کو پست کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

بھارت میں شورش زدہ کشمیر اورشمال مشرقی ریاستوں کے علاوہ گجرات، اتر پردیش، دہلی، راجستھان، پنجاب اورکرناٹک جیسی ریاستوں میں پچھلے کچھ برسوں میں بہت سے انکاؤنٹر ہوئے جن کے بارے میں شک و شبہات ظاہر کیے گئے۔

فرضی تصادم کا ایک بہت بڑا سبب انعام و اکرام کے لالچ کے علاوہ یہ بھی رہا ہےکہ سکیورٹی اہلکاروں کو شاید ہی کبھی سزا مل پائی ہو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفرضی تصادم کا ایک بہت بڑا سبب انعام و اکرام کے لالچ کے علاوہ یہ بھی رہا ہےکہ سکیورٹی اہلکاروں کو شاید ہی کبھی سزا مل پائی ہو

گجرات میں کئی اہم واقعات کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی گئی اور ریاست نے اعتراف کیا کہ یہ تصادم فرضی تھے اور مارے گئے افراد قتل کیے گئے تھے۔

گجرات کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے سربراہ سمیت ریاست کے ایک درجن سے زیادہ اعلیٰ پولیس اہلکار فرضی تصادموں کے معاملے میں جیل میں تھے لیکن کیا اسے محض اتفاق کہا جائے کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی سبھی ملزم اہلکار جیل سے باہر آ گئے اور کئی کو ان کے پرانے عہدوں پر بحال بھی کر دیا گیا۔

فرضی تصادم کا ایک بہت بڑا سبب انعام و اکرام کے لالچ کے علاوہ یہ بھی رہا ہےکہ سکیورٹی اہلکاروں کو شاید ہی کبھی سزا مل پائی ہو۔

تاہم اب ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور موبائل اور انٹرنیٹ تک عام آدمی کی رسائی اور معلومات کی تیز رفتار ترسیل سے اس طرح کے واقعات کی تشہیر تیزی سے اور دوردراز تک ہو جاتی ہے۔

حکومتیں اور سکیورٹی کے ادارے اس طرح کی زیاتیوں اور مجرمانہ حرکتوں کا دفاع کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔

کسی جمہوری ملک کے ادارے اگر دانستہ طور پر اپنے فرض سےانحراف کرتے ہیں تو وہ کسی فرد یا گروپ کی نہیں بلکہ اپنے معاشرے اور اپنی جمہوریت کی جڑیں کھود رہے ہیں۔