ہیری اور میگھن کی ٹی وی سیریز نے نیٹ فلکس پر ریکارڈ قائم کر دیا

،تصویر کا ذریعہHARRY & MEGHAN/ARCHEWELL PRODUCTIONS/NETFLIX
- مصنف, ہیلن بشبی
- عہدہ, نامہ نگار انٹرٹینمنٹ، بی بی سی نیوز
ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کے متعلق نیٹ فلکس کی نئی سیریز برطانیہ میں جمعرات کو 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھی۔
ریٹنگز کے مطابق ہیری اینڈ میگھن نامی اس شو کی پہلی قسط لانچ کے دن 24 لاکھ لوگوں نے دیکھی ہے۔
اکتوبر میں نیٹ فلکس اور ریٹنگز ادارے بارب کے درمیان معاہدے کے بعد سے یہ نیٹ فلکس کے لیے ایک دن کی سب سے بڑی آڈیئنس ہے۔
یہ ’دی کراؤن‘ نامی تازہ ترین سیریز کے پہلے دن کے اعداد و شمار سے دو گنا زیادہ ہے اور جمعرات کو بی بی سی ون کا پروگرام ایسٹ اینڈرز بھی اتنے ہی لوگوں نے دیکھا ہے۔
ڈیوک اور ڈچز کی اس چھ قسطوں پر مشتمل سیریز کی بے حد تشہیر کی گئی تھی اور اب اس کی تین قسطیں نیٹ فلکس پر دستیاب ہیں۔
پہلی قسط 24 لاکھ لوگوں نے، دوسری قسط 15 لاکھ لوگوں نے اور تیسری قسط آٹھ لاکھ لوگوں نے دیکھ لی ہے۔
اس کے مقابلے میں دی کراؤن کے پانچویں سیزن کی پہلی قسط اس کی لانچ کے دن 11 لاکھ لوگوں نے دیکھی تھی۔
بارب کے اعداد و شمار میں صرف وہ افراد شامل ہیں جنھوں نے اپنے ٹی وی سیٹس پر نیٹ فلکس دیکھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو روایتی ٹی وی چینلز پر بی بی سی ون کے دی ون شو کو 24 لاکھ لوگوں نے دیکھا، جبکہ آئی ٹی وی کا سوپ ڈرامہ کورونیشن سٹریٹ 35 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔
اس دن سب سے زیادہ دیکھے گئے پروگرامز میں بی بی سی نیوز ایٹ سکس اور دیگر مقامی خبریں تھیں جنھیں 41 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔

،تصویر کا ذریعہHARRY & MEGHAN/ARCHEWELL PRODUCTIONS/NETFLIX
روایتی ٹی وی چینلز کے برعکس نیٹ فلکس اپنی ریٹنگز میں ان لوگوں پر توجہ دیتا ہے جو طویل عرصے تک کوئی شو دیکھیں۔ چنانچہ ہیری اینڈ میگھن اور دی کراؤن جیسے شوز طویل عرصے تک دیکھے جائیں گے۔
’ہیری اینڈ میگھن‘ میں اس جوڑے اور ان کے دوستوں کے انٹرویوز اور ان کی ویڈیو ڈائری شامل ہے جس میں پریس کے ساتھ ان کے مشکل تعلق، میگھن کے متعلق نسل پرستانہ مضامین کی اشاعت پر شاہی خاندان کے ردِ عمل اور دیگر موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
ہیری نے کہا کہ میڈیا کے ساتھ منفی تجربہ ایسی چیز ہے جس کا سامنا ’سب کو کرنا پڑتا ہے۔‘
’خاندان کے کچھ ارکان نے کہا، ’میری اہلیہ کو بھی اس سے گزرنا پڑا تھا، تو آپ کی گرل فرینڈ کے ساتھ مختلف رویہ کیوں ہو؟ آپ کے ساتھ کیوں خصوصی برتاؤ کیا جائے؟ اُنھیں کیوں تحفظ دیا جائے؟‘
’میں نے کہا: ’یہاں فرق یہ ہے کہ اس میں نسل کا عنصر شامل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHARRY & MEGHAN/ARCHEWELL PRODUCTIONS/NETFLIX
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہیری نے یہ بھی کہا کہ اُنھیں فخر ہے کہ ان کے بچے مکس نسل کے ہیں اور اس سے ان میں ’دنیا کو ان کے لیے ایک بہتر جگہ بنانے‘ کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
’مگر اسی طرح جو بات ہم دونوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ ہم وہ غلطیاں نہ دہرائیں جو شاید ہمارے والدین نے کیں۔‘
اس جوڑے نے دیگر شاہی شخصیات سے ملنے کے بارے میں بھی بات کی۔ میگھن نے کہا کہ اُنھیں یہ بہت حیران کن لگا کہ رکھ رکھاؤ اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب عوامی نظروں سے دور ہوں۔‘
’جب ولیم اور کیٹ آئے اور میں ان سے پہلی مرتبہ ملی تو وہ ڈنر کے لیے آئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پھٹی ہوئی جینز پہنی ہوئی تھی اور میں ننگے پاؤں تھی۔ میں ہمیشہ گلے لگنا پسند کرتی ہوں۔ مجھے یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ بہت سے برطانویوں کو اس سے دھچکا لگتا ہے۔‘
’شاید میں نے یہ بہت جلد ہی سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ باہر والا رکھ رکھاؤ اندر بھی جاری رہتا ہے۔‘
ہیری اور میگھن سنہ 2020 میں شاہی خاندان کے سینیئر ارکان کی حیثیت سے دستبردار ہو گئے تھے۔
اب وہ کیلیفورنیا میں اپنے دو بچوں آرچی اور للیبیٹ کے ساتھ رہتے ہیں۔
اُنھوں نے برطانیہ کے ٹیبلائڈ پریس میں نسل پرستانہ کوریج کو اپنے فیصلے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔
اس سیریز کی آخری تین قسطیں جمعرات 15 دسمبر کو نیٹ فلکس پر دستیاب ہوں گی۔













