شہزادہ چارلس، کیٹ مڈلٹن اور نسلی امتیار: میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کے اوپرا ونفری کے ساتھ انٹرویو میں سامنے آنے والی اہم باتیں

Harry and Meghan speaking to Oprah with credit

،تصویر کا ذریعہJoe Pugliese/Harpo Productions/PA

ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے کہا ہے کہ ٹیبلائڈ پریس کا نسلی امتیاز برطانوی سماج میں بھی پایا جانے لگا ہے اور یہ ان کے ملک چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ بنی اور شاہی خاندان کے کسی بھی فرد نے ان سے اس حوالے سے اظہار ہمدردی نہیں کیا۔

امریکی چینل سی بی ایس پر اتوار کی شب نشر ہونے والے اس انٹرویو میں شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ نے اُن وجوہات کا ذکر کیا جن کے باعث انھوں نے شاہی زندگی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا اور اب یہ جوڑا امریکہ میں مقیم ہے۔

انٹرویو میں دونوں نے دل کھول کر اپنا موقف بیان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ شاہی خاندان کے ساتھ گزرے وقت کے دوران انھیں کن تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔

شہزادے نے اوپرا ونفری کو بتایا کہ برطانوی ٹیبلائڈ میڈیا ’نسل پرست‘ ہے اور ایک ’زہریلے ماحول‘ کو فروغ دیتا ہے۔

تاہم برطانوی اخبارات کے مدیروں کی تنظیم، سوسائٹی آف ایڈیٹرز نے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں میڈیا بالکل ’نسل پرستانہ‘ نہیں بلکہ ’امرا اور طاقتور افراد کا احتساب کرتا ہے۔‘

میگھن نے انٹرویو میں کہا تھا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے پریس سے ان کے تعلقات ’وائلڈ ویسٹ‘ کی مانند ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق شاہی خاندان کے تعلقاتِ عامہ کا عملہ جھوٹی خبروں کے خلاف ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔

شہزادے اور ان کی اہلیہ کے اوپرا ونفری کے ساتھ انٹرویو کی چند ایسی جھلکیاں بھی سامنے آئی ہیں جو پہلے نشر نہیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے

اوپرا کے ایک سوال کے جواب میں شہزادہ ہیری کہتے ہیں کہ جب انھوں نے اعلان کیا کہ وہ شاہی عہدے سے دستبردار ہونے جا رہے ہیں تو ’کئی مدیروں کے ایک دوست‘ نے انھیں میڈیا سے لڑائی مول لینے پر خبردار کیا تھا۔ ’میڈیا کے ساتھ ایسا نہ کیجیے گا، وہ آپ کی زندگی برباد کر دیں گے۔‘

یہ مکالمہ جنوری 2020 میں ایک اعشائیے کے دوران ہوا تھا۔ اس سے چند ماہ قبل میگھن نے برطانوی ٹیبلائڈ میل آن سنڈے کے خلاف ایک ذاتی خط چھاپنے پر ہرجانے کا دعوی کیا تھا۔

شہزادے نے کہا کہ انھیں ڈر تھا کہ ان کی اہلیہ بھی ان کی والدہ کی طرح ان طاقتور افراد کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔

ڈیوک آف سسیکس کے مطابق اس شخص نے ان سے کہا کہ برطانیہ ایک نسل پرست معاشرہ ہے لیکن انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ نہیں، بلکہ برطانوی پریس، بالخصوص ٹیبلائڈز کا رویہ ایسا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں ’افسوس سے کہنا پڑتا ہے‘ کہ شاہی خاندان کے کسی بھی فرد نے ان سے اظہارِ ہمدردی نہیں کیا۔

شہزادے نے اپنے بھائی ولیم کے بارے میں کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ وہ شاہی خاندان کے نظام کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے جیسے انھوں (ہیری) نے چھوڑا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ولیم بھی اس سے نکلنا چاہتے ہیں تو شہزادے نے کہا ’مجھے نہیں معلوم، میں ان کے لیے نہیں بول سکتا۔‘

میگھن اور ہیری

،تصویر کا ذریعہHarpo Productions/CBS

اس سے قبل اوپرا ونفری نے کہا ہے کہ شہزادہ ہیری نے وضاحت کی تھی کہ شاہی خاندان کے جس فرد نے ان کے بچے کی رنگت کے بارے میں سوال کیا تھا وہ نہ تو ملکہ برطانیہ اور نہ ہی ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا تھے۔

ونفری نے پیر کے روز امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'پرنس نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ اُس بات چیت میں کون شامل تھا۔'

یہ بات کہ شاہی خاندان کے ایک فرد نے یہ پوچھا کہ آرچی کی رنگت 'کتنی سیاہ' ہوگی اسی انٹرویو میں سامنے آئی ہے۔

ونفری نے بتایا کہ 'انھوں (شہزادہ ہیری) نے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ان کے دادی یا دادا اس گفتگو کا حصہ نہیں تھے۔'

پیر کو جب ونفری سے اس بارے میں مزید سوالات کیے گئے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے 'کیمرے کے آگے اور کیمروں کے پیچھے بھی جواب جاننے کی کوشش کی' لیکن شہزادے نے کوئی وضاحت نہیں کی۔

اسی انٹرویو میں ڈچس آف سسیکس اور اداکارہ میگھن مارکل نے بتایا کہ جب وہ شاہی خاندان کا حصہ تھیں تو انھوں نے خودکشی کے بارے میں سوچا تھا اور جب انھوں نے مدد مانگی تو انھیں کوئی سہارا نہیں ملا۔

شہزادہ ہیری نے اپنے خاندان اور خاص کر اپنے والد کے ساتھ ’خراب تعلقات‘ کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح شاہی خاندان نے ان کی معاشی مدد مکمل طور پر بند کر دی ہے۔

بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار جونی ڈائمنڈ نے اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر کا صرف ایک رُخ ہے لیکن یہ بات کافی سنگین ہے کہ میگھن کے مطابق وہ ان حالات سے گزر رہی تھیں۔

جونی ڈائمنڈ کے مطابق ’یہ دھماکہ خیز مواد ہے، یہ انکشافات شاہی خاندان کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔‘

Meghan y Harry,

،تصویر کا ذریعہPA Media

’شاہی خاندان کے ایک فرد کو تشویش تھی کہ بیٹے کی رنگت کتنی سیاہ ہو گی‘

ان کے بیٹے آرچی کو ان کی پیدائش پر شہزادے کا لقب نہیں دیا گیا تھا۔ میگھن کے مطابق یہ خبریں غلط ہیں کہ آرچی کو شاہی لقب نہ دینے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا اور دعویٰ کیا کہ شاہی خاندان کے اصول بدل دیے گئے تاکہ آرچی کو شاہی لقب نہ مل سکے۔

ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ خاندان میں دیگر بچوں کے برعکس ایک غیر سفید فام بچے کو شاہی لقب دے کر سکیورٹی نہیں دی جائے گی۔

'جب میں حاملہ تھی تو انھوں نے کہا کہ وہ آرچی (میگھن اور ہیری کے بیٹے) کے لیے اصول بدل رہے ہیں۔ لیکن کیوں؟'

اوپرا نے میگھن سے پوچھا کہ انھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ شاہی خاندان آرچی کو شہزادے کا لقب نہیں دینا چاہتا تھا۔

میزبان نے پوچھا: ’آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس کی نسل کی وجہ سے ہے؟‘

آرچی کی پیدائش سے پہلے کا وقت یاد کرتے ہوئے میگھن نے جواب دیا ’جب میں حاملہ تھی تو اردگرد ایسی باتیں ہو رہی تھیں کہ بچے کی پیدائش پر اس کی جِلد کتنی سیاہ ہوگی۔‘ تاہم انھوں نے شاہی خاندان کے اس فرد کا نام لینے سے انکار کیا جنھوں نے ہیری سے یہ بات کہی تھی۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ اس فرد کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اس موقعے پر شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ ’یہ گفتگو میں کبھی بھی شئیر نہیں کروں گا۔ اس وقت بھی مجھے یہ بات بہت عجیب لگی تھی، مجھے قدرے صدمہ پہنچا۔‘

پیر کو اوپرا ونفری نے کہا ہے کہ پرنس ہیری نے وضحات کی تھی کہ شاہی خاندان کے جس فرد نے ان کے بچے کی رنگت کے بارے میں سوال کیا تھا وہ نہ تو ملکہ برطانیہ تھیں اور نہ ہی ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا تھے۔

آرچی

،تصویر کا ذریعہEPA

’خودکشی کے متعلق خیالات‘ اورشاہی خاندان کا ’مدد سے انکار‘

جب میگھن سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ماضی میں ایسا کیوں کہا کہ شاہی خاندان میں ان کے لیے زندگی گزارنا ناممکن تھا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ 'میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ میں شرمندہ تھی کہ ہیری کو کتنا نقصان ہوا ہے۔'

میگھن نے اوپرا کے سامنے انکشاف کیا کہ ان کے ذہن میں خودکشی سے متعلق خیالات جنم لے رہے تھے اور وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی تھیں 'میں نے سوچا کہ میری خودکشی سے بہت سے لوگوں کے لیے بہت کچھ حل ہو جائے گا۔'

میگھن نے شاہی خاندان میں شامل ہونے، اپنی آزادی سے محروم ہونے اور تنہائی کے احساس سے متعلق بات کی۔

اس کا کہنا تھا کہ جب ان پر پابندیاں لگائیں گئیں اور انھیں بتایا گیا کہ وہ کیا کر سکتیں ہیں اور کیا نہیں، تو اس کے بعد وہ تنہا ہوگئیں اور مہینوں باہر نہیں نکلیں۔

میگھن کے مطابق 'شاہی خاندان میں ایک فرد نے مجھے کچھ عرصے کے لیے خاموش رہنے کا کہا۔۔۔ میں کئی مہینوں تک گھر سے نہیں نکلی تھی۔‘

ہیری کا کہنا تھا کہ انھیں ’کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرنا چاہیے‘ اور ’میں خود (ذہنی طور پر) ایک بہت تاریک مقام پر تھا۔۔۔ میں کسی سے مدد نہیں مانگ سکتا تھا۔‘

میگھن کے مطابق جب انھوں نے اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے مدد حاصل کرنا چاہتی تو شاہی خاندان نے ان کی یہ گزارش مسترد کر دی تھی۔

’میں ادارے (شاہی خاندان) کے پاس گئی اور میں نے کہا کہ مجھے مدد حاصل کرنے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت ہے، میں نے انھیں بتایا کہ آج سے پہلے مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا اور مجھے کہیں جانے کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے بتایا گیا کہ میں ایسا نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ ادارے (شاہی خاندان) کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔‘

میگھن نے کہا کہ وہ شاہی خاندان کے ’سب سے سینئر افراد میں سے ایک‘ اور پھر محل کے ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ کے پاس گئیں۔

ان کا کہنا تھا ’لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اکثر ایک ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے کوئی ہیرو ہے اور کوئی ویلن۔ وہ کہتی ہیں کہ بطور ایک طلاق یافتہ خاتون جو شاہی جوڑے میں پہلی غیر سفید فام فرد تھیں، انھیں اس سب کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا گیا جیسے وہ اکیلی ہیں۔

Meghan y Harry hablando con Oprah Winfrey.

،تصویر کا ذریعہHarpo Productions - Joe Pugliese

شہزادہ ہیری: ’میرے والد نے مجھے بہت مایوس کیا‘

اوپرا نے ہیری سے ان کے خاندان، خاص طور پر ان کے والد، پرنس آف ویلز اور بھائی ڈیوک آف کیمبرج کے ساتھ تعلقات سے متعلق پوچھا۔

شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ شاہی خاندان سے دستبرداری کے بعد ایک موقع پر چارلس نے ’میرا فون اٹھانا چھوڑ دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ’(میرے والد) خود اسی طرح کی صورتحال سے گزرے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہے اور آرچی ان کا پوتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے مجھے بہت مایوس کیا۔‘

’میں بہت کرب سے گزرا ہوں لیکن میں ہمیشہ ان سے محبت کرتا رہوں گا۔۔۔ اور ان کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور اس رشتہ کو بہتر بنانا، میری ترجیحات میں شامل ہو گا۔‘

پرنس ولیم کے بارے میں شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ وہ ان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور دونوں نے اکھٹے ہر قسم کے حالات کا سامنا کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دو مختلف راستوں پر تھے۔‘

چارلس

،تصویر کا ذریعہMoD / Crown

میگھن: ’کیٹ مڈلٹن اور میرے درمیان کوئی بدمزگی نہیں ہوئی‘

چند سال قبل اخبارات میں ایسے دعوے کیے گئے تھے کہ شادی سے قبل پھول پکڑنے والی لڑکیوں کے لباس کو لے کر میگھن نے ڈچ آف کیمبرج، کیٹ مڈلٹن کو رلا دیا تھا۔

جب اس حوالے سے میگھن سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی ڈچس آف کیمبرج شہزادی کیٹ مڈلٹن سے نوک جھونک کی افواہوں میں کوئی صداقت ہے تو انھوں نے جواب میں اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ’ سچ اس کے بالکل برعکس تھا۔‘

میگھن نے کہا ’شادی سے کچھ دن قبل کیٹ پھول پکڑنے والی لڑکیوں کے ملبوسات کے بارے میں ناراض تھیں اور مجھے رونا آ گیا‘۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں کیٹ نے معافی مانگی اور پھولوں اور ایک تحریر کے ذریعے ان سے اپنے تعلقات بحال کیے۔

میگھن نے کہا ’میں کیٹ کے بارے میں یہ بات ان کے لیے ناپسندیدگی ظاہر کرنے کے لیے شیئر نہیں کر رہی ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کیٹ ایک اچھی انسان ہیں اور وہ بھی ان چھوٹی خبروں کی تصیح کروانا چاہیں گی۔‘

میگھن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملکہ کے ساتھ ’اچھے تعلقات‘

شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ ملکہ کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات قائم ہیں۔

ہیری کا کہنا تھا کہ ان کے اپنی دادی کے ساتھ ’واقعی اچھے‘ تعلقات قائم ہیں اور انھوں نے پچھلے سالوں کے مقابلے میں گذشتہ سال کئی بار ان سے بات کی ہے جس میں آرچی کے ساتھ ویڈیو کال بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا ’وہ میری کرنل ان چیف ہیں، ایسا ہی ہے نا؟ وہ ہمیشہ رہیں گی۔‘

میگھن نے بھی ملکہ کی تعریف کی اور کہا کہ انھوں نے جوڑے کو اپنے خوبصورت زیورات اور سفر کے دوران گرم رہنے کے لیے ایک کمبل بھی دیا تھا۔

ملکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میگھن نے ڈیانا کی ایک دوست سے مدد مانگی

انٹرویو کے دوران شہزادی ڈیانا کا متعدد بار تذکرہ ہوا۔

میگھن نے اس وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ مشکل حالات سے دوچار تھیں تو ’مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ کس سے مدد مانگوں اور جن لوگوں سے میں نے مدد مانگی ان میں میرے شوہر کی ماں کی سب سے اچھی دوستی شامل تھیں۔‘

’کیونکہ اور کون سمجھ سکتا ہے کہ شاہی خاندان کا حصہ بن کر رہنا کیسا تجربہ ہے۔‘

ڈیانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب ہیری کی مالی معاونت ختم کر دی گئی

2020 کی پہلی سہ ماہی میں ہیری نے کہا تھا کہ ان کے اہل خانہ نے ان کی مالی مدد بند کر دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ میگھن اور خود انھوں نے نیٹ فلکس اورسپاٹی فائے کے ساتھ شوز اور پاڈ کاسٹ کے جو معاہدے کیے ہیں وہ کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھے تاہم ’مجھے ہماری سکیورٹی کے لیے یہ کرنا پڑا۔‘

ہیری کا کہنا تھا ’لیکن میرے پاس میری ماں کی چھوڑی دولت موجود ہے اور میں اس کے بغیر گزارہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔‘

جوڑے نے انکشاف کیا کہ جب ان کی مالی مدد بند کر دی گئی تو جس وقت وہ کینیڈا سے جنوبی کیلیفورنیا منتقل ہوئے، اس وقت امریکی ارب پتی ٹائلر پیری نے گذشتہ سال ہیری اور میگھن کو ایک گھر اور سکیورٹی فراہم کی۔

GETTY IMAGES

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میگھن نے شادی سے قبل شاہی خاندان پر کوئی تحقیق نہیں کی

پہلی بار ملکہ سے ملنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے میگھن نے کہا کہ وہ یہ جان کر حیرت زدہ رہ گئیں کہ ملکہ سے ملتے ہوئے انھیں کرٹسی (ادب سے جھکا) جھکنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی تھیں یہ صرف ’فین فئیر کا حصہ‘ ہے اور شاہی خاندان کے اندر ایسا نہیں ہوتا ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ ملکہ سے ملنے سے پہلے کس طرح انھوں نے ان سے ملنے کی پریکٹس کی۔ ’میں نے ہیری سے کہا ’وہ آخر آپ کی دادی ہیں‘ لیکن ہیری نے کہا ’وہ ملکہ ہیں۔‘‘

میگھن نے مزید کہا کہ شاہی خاندان کا حصہ بننے سے قبل انھوں نے اس خاندان پر کوئی تحقیق نہیں کی تھی۔

رع

،تصویر کا ذریعہReuters

تقریب سے تین دن پہلے شادی

لاکھوں افراد نے ہیری اور میگھن کو 2018 میں ونڈسر کاسل میں شادی کے بندھن میں بندھتے دیکھا۔ لیکن جوڑے نے انکشاف کیا کہ حقیقت میں ان کی شادی تین دن قبل ہو گئی تھی۔

’ہم نے کینٹربری کے آرچ بشپ کو بلایا اور صرف اتنا کہا ’دیکھیں یہ تماشا دنیا کے لیے ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بندھن ایسے بندھے کہ اس میں صرف ہم دونوں ہی ہوں۔‘

Meghan y Harry.

،تصویر کا ذریعہReuters

تجزیہ: ’شاہی خاندان ایسی باتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کرتا‘

بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار جونی ڈائمنڈ کے مطابق انٹرویو کے دوران ’ہیری بہت پرسکون، بہت خوش دکھ رہے تھے، اُس ناخوش آدمی سے بالکل مختلف جو ان کے برطانیہ میں گزارے آخری سال میں دیکھنے میں آئے تھے۔‘

جونی ڈائمنڈ لکھتے ہیں ’میگھن اور ہیری نے اپنی زندگی کے ایک ایسے وقت کے بارے میں بنا کسی گلے شکوے اور رنج کے کھل کر بات کی ہے جس پر انھیں سخت پچھتاوا ہے اور اس انٹرویو سے میگھن اور ہیری دونوں کی ایسی شبیہ سامنے آئی ہے جسے دیکھ کر ان سے ہمدری ہونے لگتی ہے۔‘

میگھن کے مطابق 'ملکہ میرے ساتھ ہمیشہ بہت اچھی طرح پیش آئی ہیں۔ مجھے ان کا ساتھ بہت پسند ہے۔۔۔ وہ اور شاہی خاندان کے دوسرے افراد میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔' لیکن اس کے باوجود وہ وہاں تنہا محسوس کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شاہی خاندان میں رہتے ہوئے ان کے لیے کچھ حدود تھیں۔ مکمل آزادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت سے کام نہیں کرسکتی تھیں۔

جونی ڈائمنڈ کے مطابق میگھن نے ایسی باتوں پر روشنی ڈالی ہے جن کی شاہی خاندان کی جانب سے کبھی تصدیق یا تردید نہیں ہوتی۔