شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی خاندان سے رقم وصول کیے بغیر مالی طور پر کیسے خود مختار ہو سکتے ہیں؟

شہزادہ ہیری اور میگھن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برطانیہ کے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن نے شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کا اعلان کر کے جہاں سوشل میڈیا کی دنیا میں ہنگامہ برپا کیا ہے وہی شاہی محل بکنگھم پیلس کو بھی پریشان کر دیا ہے۔

ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاہی خاندان کی ’سینیئر‘ شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مالی طور پر خودمختار ہونے کے لیے اقدامات کریں گے۔

لیکن فی الحال ان کو کس طرح مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے اور وہ مستقبل میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے اخراجات کو پورا کرنے کے ان کے کیا ارادے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

ہیری اور میگھن کی مالی اعانت کون کرتا ہے؟

شاہی جوڑے کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر کی تقریباً 95 فیصد اخراجات پرنس آف ویلز یعنی شہزادہ ہیری کے والد شہزادہ چارلس برداشت کرتے ہیں۔

وہ شہزادہ ہیری اور میگھن کے علاوہ شہزادہ ولیم اور کیتھرین کے عوامی فرائض کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ نجی اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں۔

جب میگھن سرکاری طور پر شاہی خاندان کا حصہ بنی تھیں تو سنہ 2018-19 میں یہ مالی اعانت پانچ ملین پاؤنڈ (6.5 ملین ڈالر) سے کچھ زیادہ تھی۔

یہ رقم شہزادہ چارلس کی ڈچ آف کارنوال سے ہونے والی آمدن سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ جائیداد اور مالی سرمایہ کاری کا ایک وسیع مجموعہ ہے جس سے گذشتہ برس 21.6 ملین پاؤنڈ (28.2 ملین ڈالر) کی رقم حاصل ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ، سسیکسس کی آمدنی کا تقریباً پانچ فیصد ’سوورن گرانٹ‘ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ رقم سرکاری ذمہ داریوں اور شاہی محلات کی دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے شاہی خاندان کو ادا کی جاتی ہے۔

شاہی خاندان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان اعداد و شمار میں سکیورٹی کے اخراجات شامل نہیں ہیں، جو الگ سے پورے کیے جاتے ہیں۔

’سوورن گرانٹ‘ کو کراؤن سٹیٹ سے حاصل ہونے والے منافع سے چلایا جاتا ہے۔ کراؤن سٹیٹ درحقیقت کمرشل جائیدادیں ہیں جو کہ شاہی خاندان کی ملکیت ہیں۔

اپنے شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کی صورت میں شہزادہ ہیری اور میگھن کو یہ رقم ملنا بند ہو جائے گی۔

شہزادہ ہیری اور میگھن کی مالی حیثیت کیا ہے؟

فارچون میگزین کے مطابق میگھن کے پاس موجود دولت کی مجموعی مالیت تقریباً پانچ ملین ڈالر ہے۔ یہ پیسے انھوں نے اداکاری کے شعبے سے کمائے ہیں۔ اندازے کے مطابق جس ڈرامہ سیریز میں انھوں نے کام کیا تھا اس کی ہر قسط کے عوض انھیں پچاس ہزار ڈالرز کی ادائیگی ہوتی تھی۔

وہ ایک لائف سٹائل بلاگ بھی چلاتی ہیں اور کینیڈا کے ایک برانڈ کے لیے اپنی فیشن لائن بھی ڈیزائن کرتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شہزادہ ہیری کی دولت کا تخمینہ کم از کم 25 ملین ڈالر ہے۔

میگھن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شہزادہ ہیری اور ان کے بھائی شہزادہ ولیم کو ان کی مرحوم والدہ شہزادی ڈیانا کی طرف سے وراثت میں کافی دولت ملی تھی۔

فارچون میگزین کے مطابق جب شہزادہ ہیری سنہ 2014 میں 30 برس کے ہوئے تھے تو انھیں شہزادی ڈیانا کے قائم کردہ ٹرسٹ فنڈ سے 10 ملین پاؤنڈ یعنی تقریباً 13.3 ملین ڈالرز ملے تھے۔

’مالی طور پر خود مختار‘ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

اپنی ویب سائٹ پر شہزادہ ہیری اور میگھن کا کہنا ہے کہ سوورن گرانٹ، جسے وہ اب لینا بند کر دیں گے، ان کی آمدنی کا صرف پانچ فیصد ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اپنے دوسرے مالی اعانت کے وسائل کو ترک کردیں گے یا نہیں۔

اس جوڑے کو ٹیکس دہندگان کی مدد سے برطانوی میٹرو پولیٹن پولیس کی سکیورٹی فراہم کی جاتی رہے گی، تاہم اس کے اخراجات کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

اس جوڑے کے شمالی امریکہ اور برطانیہ کے درمیان آتے جاتے رہنے کے ارادے سے اس لاگت میں مزید اضافے کا امکان ہے، لیکن امکان ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کریں گے، اگرچہ اس کے اخراجات زیادہ ہوں گے۔

شاہی جوڑے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ اپنے نجی سفر کے اخراجات خود برداشت کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ سرکاری مصروفیات کے لیے کیے گئے سفر کے اخراجات ابھی بھی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کیے جائیں گے۔

وہ برطانیہ میں اپنا گھر، ونڈسر میں واقع فروگمور کاٹیج کو اپنے پاس رکھیں گے۔ اس گھر کی تزئین و آرائش گذشتہ برس ٹیکس دہندگان کی رقم کی کی گئی تھی اور اس پر 2.4 ملین پاؤنڈ لاگت آئی تھی۔

کیا شاہی خاندان کو پیسہ کمانے کی اجازت ہے؟

بطور سینیئر شاہی رکن، شہزادہ ہیری اور میگھن کو کسی بھی طرح سے رقم کمانے کی اجازت نہیں ہے۔

شاہی خاندان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس جوڑے نے بتایا کہ شاہی خاندان کے دوسرے موجودہ اراکین بھی ہیں جن کے پاس کل وقتی ملازمت ہے۔

شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی، مثال کے طور پر ’ورکنگ رائلز‘ نہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ شاہی خاندان کے ممبران کی حیثیت سے سرکاری طور پر عوامی فرائض سرانجام نہیں دیتے ہیں۔

شہزادی بیٹریس فنانس میں کام کرتی ہے، جبکہ شہزادی یوجینی ایک آرٹ گیلری میں ڈائریکٹر ہیں۔

تاہم، ان کے چند اخراجات بھی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کیے جاتے ہیں، جیسا کہ سنہ 2018 میں شہزادی یوجینی کی شادی کی آنے والے سکیورٹی اخراجات۔

شاہی مالیات سے متعلق ایک کتاب کے مصنف ڈیوڈ میک کلچر کے مطابق اس وقت یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ مستقبل میں شہزادہ ہیری اور میگھن کس طرح خود اپنے اخراجات اٹھا پائیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ کتابیں لکھ کر پیسہ کما سکتے ہیں، دوسرا ممکنہ ذریعہ ٹیلی ویژن ہے۔ شہزادہ ہیری اور میگھن کے بارے میں اوپرا ونفری کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بات کی گئی ہے، لہذا یہ پیسہ کمانے کا ایک ممکنہ طریقہ ہو سکتا ہے۔‘

ان کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو سکتا ہے؟

شہزادہ ہیری اور میگھن

،تصویر کا ذریعہReuters

اپنے بیان میں جوڑے کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان کی ترجیح نیا خیراتی ادارہ قائم کرنا ہو گی اور گذشتہ برس رائل فاؤنڈیشن چھوڑنے کے فیصلے کے پیچھے بھی یہ ہی عوامل کار فرما تھے۔ رائل فاؤنڈیشن میں ان کے ساتھ ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج بھی شامل تھے۔

رائل فاؤنڈیشن سنہ 2009 میں قائم کی گئی تھی جو ان معاملات پر توجہ دیتی تھی جو شہزادوں کے لیے اہم تھے اور اس میں مسلح افواج کا خیال، تحفظ اور ذہنی صحت شامل ہے۔

برانڈنگ

گذشتہ برس جون میں اس شاہی جوڑے نے رائل سسیکس کے نام سے ایک برانڈ بنایا تھا، جس میں پینسل کیسز سے لے کر کھیلوں کی سرگرمیوں اور تعلیم کی تربیت تک درجنوں اشیا اور خدمات کو متعارف کیا گیا تھا۔

دنیا کے ایک مشہور جوڑے کی حیثیت سے ان کے برانڈ میں انتہائی منافع بخش ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مشترکہ انسٹاگرام اکاؤنٹ (سسیکسروئل) کے 10 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔ جبکہ میگھن گذشتہ سال برطانیہ میں سب سے زیادہ گوگل پر تلاش کی جانے والی شخصیت تھیں۔

چاہے ان میں سے کسی بھی آمدنی کے ذرائع کا استعمال ہو گا یا اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے اس ہر بحث ہو سکتی ہے۔ گویا ان کو مالی طور پر خود مختار رہنے کی ضرورت ہو گی۔