عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی: ’غیر ملکی فوجیوں کے انخلا سے عراق ایک ممکنہ تصادم سے بچائے گا‘

عادل عبد المہدی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سبکدوش ہونے والے عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے متنبہ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری حالیہ کشیدگی کے باعث ملک کو ایک ’نازک صورتحال‘ کا سامنا ہے۔

سات جنوری کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم عبدالمہدی نے خبردار کیا کہ ’یہ بحران خود خطے سے بڑا ہے۔‘ ان کا یہ خطاب عمان میں قائم عراق پر رپورٹنگ کرنے والے مقامی میڈیا التغیر نے نشر کیا۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراق میں غیر ملکی فوج کی موجودگی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور ہوچکی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجیوں کو ملک سے بے دخل کرنے سے عراق ’ایک ممکنہ تصادم سے بچائے گا۔‘

انھوں نے عراق میں غیر ملکی فوج کی موجودگی کے خاتمے کے لیے اپنی نگران حکومت کی جانب سے پارلیمان کے ووٹ کرنے کی تجویز کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کشیدگی سے بچنے کا ’واحد راستہ‘ ہے۔

وزیر اعظم عبدالمہدی نے یہ تصدیق بھی کی کہ انھیں امریکی کمانڈ کا عراق سے فوجیوں کے انخلاء کے بارے میں ایک پیغام موصول ہوا تھا لیکن پھر چند گھنٹوں کے بعد امریکہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں اور پیغام غلط تھا۔

واضح رہے کہ پانچ جنوری کو، عراقی پارلیمنٹ نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جس میں بغداد میں امریکی فضائی حملے میں عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے رہنما ابو مہدی المہندس اور ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد حکومت سے غیر ملکی فوجیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے ردعمل میں دھمکی دی تھی کہ اگر عراق نے امریکی افواج کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تو اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عراق پارلیمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناتوار کو عراقی پارلیمان میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے مطالبے والی قرارداد کی منظوری کے بعد عالمی اتحاد نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں روک دیں

عراقی وزیر اعظم عبد المہدی نے کہا کہ ’عوام اور نمائندگان کونسل [پارلیمنٹ] کے سامنے میرا شفاف ہونا میری ذمہ داری کا تقاضہ ہے۔‘ انھوں نے ریاست اور حکومت کی طاقت میں اضافہ اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے عوام کے اتحاد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ ایسی سیاسی قوتوں کو مورد الزام ٹھہرانا ’نامناسب‘ تھا جنھوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی جس میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے لیے ووٹ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کے لیے انھیں سربراہان مملکت کی دسیوں کالیں موصول ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا کسی کے خلاف کوئی معاندانہ ارادہ نہیں ہے اور ہمیں ہر ایک کے ساتھ مثبت تعلقات کی ضرورت ہے۔‘

امریکہ کے حملے میں جنرل سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کی ہلاکت کے بعد سے خطے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر عراق نے غیردوستانہ طریقے سے امریکی افواج کو چلے جانے کو کہا تو اس پر ایسی پابندیاں لگیں گی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی

امریکی صدر نے عراق کو کیا دھمکی دی؟

امریکی صدر نے اپنے طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عراق نے غیردوستانہ طریقے سے امریکی افواج کو چلے جانے کو کہا تو ’ہم ان پر ایسی پابندیاں لگائیں گے جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ ایران پر عائد پابندیاں بھی ان پابندیوں کے سامنے کچھ نہیں ہوں گی۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی جارحانہ اقدام ہوا اور انھوں نے ایسا کچھ کیا جو ہمارے خیال میں نامناسب ہے تو ہم عراق پر پابندیاں لگائیں گے، بڑی پابندیاں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہاں ہمارا بہت مہنگا فضائی اڈہ ہے جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر لگے ہیں۔ ہم اس وقت نہیں نکلیں گے جب تک وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر دیتے۔‘

اس وقت عراق میں پانچ ہزار امریکی فوجی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف بنائے گئے عالمی اتحاد کی چھتری تلے موجود ہیں۔

اتوار کو عراقی پارلیمان میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے مطالبے والی قرارداد کی منظوری کے بعد اس اتحاد نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں روک دی تھیں۔

عراقی پارلیمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقرارداد میں عراقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیرملکی افواج کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندری حدود کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں

پارلیمان میں منظور کی گئی قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی افواج کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندری حدود کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

عراق کے نگراں وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ یہ اقدام عراق کے بہترین مفاد میں ہو گا باوجود اس کے کہ اس کی وجہ سے ملک کو اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی فوج کے حملے کے بعد مختلف شیعہ سیاسی رہنماؤں نے اپنے تمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر امریکی فوج کے ملک سے انخلا کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔

قرارداد میں کہا کیا گیا ہے؟

عراقی پارلیمان کی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اُس درخواست کو واپس لے لے جس میں عراق نے بین الاقوامی اتحادی افواج سے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مدد مانگی تھی کیونکہ اب دولت اسلامیہ کو شکست ہو چکی ہے۔

اس میں عراق حکومت پر مزید زور دیا گیا کہ وہ ملک میں بیرونی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے ہر مکمن اقدام کرے اور غیر ملکی فوجیوں کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندر کو کسی بھی صورت میں استعمال کرنے سے باز رکھے۔

اس کے علاوہ عراقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عراق کی خود مختاری اور سیکیورٹی کو پامال کرنے پر اقوام متحدہ میں باقاعدہ شکایت کی جائے۔

امریکی فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں امریکہ نے مزید تین ہزار فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے

عراقی پارلیمان میں قانون ساز کمیٹی کے رکن عمار الشبلی نے برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے عراق سے خاتمے کے بعد ملک میں امریکی فوج کی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔

ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے ڈیموکریٹ ارکان کو لکھے گئے ایک خط میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے پر ووٹنگ کروانے کا اعلان کیا۔ اس ووٹنگ کا مقصد عسکری تصادم سے بچنا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کی دو ڈیموکریٹ ارکان لہان عمر اور باربرا لی نے ایوان میں امریکی افواج کی ایران سے جنگ کرنے پر پابندی لگانے کی تجویز بھی دی ہے۔ الہان عمر نے اپنی تقریر میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ’کانگریس کی اجازت کے بغیر جنگ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل امریکی آئین کی خلاف وزری تھا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر نے اتوار کو کہا تھا کہ ٹوئٹر پر ان کے پیغامات ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے کافی تھے۔

اس پر ایوانِ نمائندگان کی تعلقاتِ خارجہ کمیٹی نے ایک ٹویٹ میں صدر کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’یہ پیغام ایک یاد دہانی ہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کے اعلان کے لیے کانگریس کی اجازت ضرور ہے۔ آپ کو جنگ کی حدود کے بارے میں قانون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ آپ وہ نہیں کر رہے۔‘