عراق میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران سے متعلق کیا حکمت عملی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عراق میں ایک ڈرون حملے سے ایران کے انتہائی بااثر فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا فیصلہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ بنا ہے۔ اس اقدام کے پیچھے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے، اور آگے کیا ہونے جارہا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ اپنا وعدہ دہرایا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی دستے واپس بلا لیں گے۔
لیکن ان کے دور میں امریکہ اور ایران کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں جبکہ تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ بھی ختم کر دیا ہے جو ان کے مطابق ایک غلطی تھی۔
بی بی سی نے امریکہ میں متعدد سیاسی و خارجی امور کے ماہرین سے بات کی ہے تاکہ وہ یہ بتا سکیں کہ قاسم سلیمانی پر حملے کے فیصلے کا کیا مطلب ہے اور اس سے امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’ٹرمپ حکمت عملی کے ماہر نہیں‘
پی جے کرولی امریکہ کے ایک سابق نائب وزیر خارجہ ہیں اور انھوں نے ’ریڈ لائن: امریکن فارن پالیسی ان اے ٹائم آف فریکچرڈ پالیٹکس اینڈ فیلنگ سٹیٹس‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔
یہ اقدام اب کیوں؟
ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے حملہ کیا تھا اور یہ عراق اور شام میں اس کے محفوظ مقامات کے خلاف کیے گئے اقدام کا ردعمل تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ بغداد کے سفارت خانے پر حملے کی شدت پر حیران تھی۔ انھوں نے اسے ایک خطرہ سمجھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اس کے پیچھے قاسم سلیمانی ہیں۔ صدر نے جب ہدف کے حصول کے لیے ایک اچھا موقع دیکھا تو حملے کی منظوری دے دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ حکمت عملی کے ماہر نہیں۔ وہ حالات اور اپنے ذہن کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ مجھے اس بات پر حیرانی ہوگی اگر انھوں نے اس حملے کی منظوری سے قبل اس کے اثرات کے بارے میں سوچا ہوگا۔
انھیں ایک موقع مل گیا تھا کہ وہ ایک ’بُرے آدمی‘ کو مار سکیں جسے ان سے پچھلے امریکی صدر براک اوباما نے نہیں مارا تھا۔ بس ان کے لیے اتنا جاننا ہی کافی تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
ایران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس حملے پر ردعمل دیں گے اور ان کے پاس کئی ایسے گروہ ہیں جو پورے خطے میں اس ہدف کے حصول کے لیے موقع تلاش کریں گے۔
انھیں امریکی سیاست کے بارے میں اتنا اندازہ ہے کہ ٹرمپ کے لیے دوبارہ منتخب ہونے میں امریکہ کی معیشت کا اہم کردار ہوگا۔ اگر وہ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں تو وہ ایسا ضرور کریں گے۔
نظریاتی اعتبار سے صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ ایک ’بہتر معاہدہ‘ ہوسکے جس میں ایران کے جوہری عزائم کے ساتھ ساتھ اس کے میزائل پروگرام اور علاقائی رویے کو بھی شامل کیا جائے۔
یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس سے ہم مذاکرات کے قریب کیسے آئیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جب یہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں پورے خطے میں بھرپور انداز میں سراہا جائے گا تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ ایک خواب دیکھ رہے ہیں۔
یروشلم اور ریاض اس کا خیر مقدم کریں گے لیکن باقی کے خطے کو اس پر تشویش ہے۔
مشرق وسطی سے نکلنے کے وعدوں کا کیا؟
صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ تعلقات کی پالیسی میں بنیادی تضاد ہے اور انھیں اس کا علم نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں جبکہ ان کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ امریکہ اس خطے سے باہر نکال سکے۔
ایک طرف امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ میں جنگوں پر لگاتار تنقید کی ہے تو دوسری طرف انھوں نے خود ایسے اقدامات کیے ہیں جو ، کم از کم تھوڑے دورانیہ کے لیے، امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ سیاسی اور اقتصادی کشیدگی کو جنگ میں بدلنے کے خطرات بڑھاتے ہیں۔

’سزا اور جزا کا اصول‘
ولیم ٹوبی ہارورڈ کینیڈی سکول میں سائنس اور بین الاقوامی امور کے بیلفر سینٹر سے منسلک ہیں۔ وہ امریکہ کے ادارے نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن میں جوہری ہتھیاروں سے دفاع اور ان کے عدم پھیلاؤ کے شعبے کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر رہ چکے ہیں۔
اب کیوں؟
قاسم سلیمانی کی ہلاکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کی زیادہ سے زیادہ دباؤ پیدا کرنے کی مہم حیرت انگیز طور پر کام کی ہے۔
تہران نے فیصلہ کیا ہے کہ اقتصادی ذرائع کے بعد فوجی ذرائع سے حملہ کیا جائے۔ پہلے انھوں نے تیل کے ٹینکروں اور تنصیبات پر حملے کیے اور پھر کنٹریکٹرز کے خلاف اقدامات کیے۔
امریکہ کے اس اقدام کو ایسے ایرانی حملے ختم کرنے کے لیے ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاکہ تہران کو بتایا جا سکے کہ ’دیکھو، یہ آپ کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR
ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
وہ ایک پیچیدہ پالیسی لے کر چل رہے ہیں۔ ایران پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ اس کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو اور اس سے امریکہ ایران سے بہتر معاہدہ کر سکے۔
لیکن امریکہ اتنا بھی دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا کہ ایران سمجھے امریکہ کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہتا یا ایران کے مفاد میں کسی ڈیل پر رضا مند نہیں ہوگا۔
اس طرح آپ ایسے اقدامات سے سزا اور جزا کا اصول دیکھ سکتے ہیں۔ سزا یعنی سلیمانی پر حملہ اور جزا یعنی صدر کا بیان کہ ’میں ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں چاہتا۔‘
یہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ لامحدود کشیدگی کو بہتری کے طور پر نہیں دیکھتے۔
آگے کیا ہوگا؟
ایران میں مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ اقتصادی پابندیوں سے خود کو اس لڑائی میں ہارتا دیکھ کر انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ فوجی حملوں سے جیتا جا سکتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایسے ملک جو غمزدہ ہوں یا جن پر حملہ کیا گیا ہو وہ زیادہ آسانی سے خطرہ مول لے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ہم نے دیکھا ہے کہ تہران کی حکومت بڑے خطرے مول لیتی ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ آگے بھی وہ مزید خطرات کا سامنا کرنے کے لیے رضا مند ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ پہلے کون ہار مانے گا، ٹرمپ انتظامیہ کی دباؤ ڈالو مہم یا اسے برداشت کرنے کی تہران کی صلاحیت۔

’ٹرمپ کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا‘
لیوک کوفی ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں قائم الیسن سینٹر برائے بین الاقوامی پالیسی کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ واشنگٹن کی ایک قدامت پسند تنظیم ہے۔ وہ امریکی فوج کے ریٹائرڈ افسر اور برطانوی وزارت دفاع کے سابق مشیر ہیں۔
یہ اقدام اب کیوں؟
میرے خیال میں ہر شخص کے پاس ایک مقررہ حد ہوتی ہے۔
جب آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ایران گذشتہ سال سے کیا کچھ کر رہا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایران امریکہ کی طرف سے کسی ردعمل کا انتظار کررہا تھا۔
ٹرمپ فوجی مداخلت پر یقین نہیں رکھتے، اس لیے وہ اس صورتحال سے بچنا چاہتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں انھیں یہ راستہ دکھایا گیا تھا لیکن انھوں نے اسے مسترد کیا تھا۔ لیکن اس ہفتے انھوں نے فیصلہ کیا کہ بس اب بہت ہو چکا۔
انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں اور بات چیت کے لیے کوئی شرط نہیں رکھ رہے۔
ٹرمپ ایسے موڑ پر آچکے تھے جب انھیں جوابی کارروائی کرنی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
وہ اپنی حکمت عملی میں زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالیں گے۔ انتظامیہ اس حوالے سے کافی مستقل مزاج رہی ہے۔
ٹرمپ نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا چاہتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ محدود فوجی اقدامات کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔
میرے خیال میں مذاکرات کے لیے ٹرمپ خود کو ایک اہم شخص کے طور پر دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاہدہ ایسے وقت میں ہو جب وہ فریق ہوں۔ لیکن ایران کی طرف سے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کی وجہ سے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
ہم اچانک ایک صبح اٹھ کر قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ان کا ٹھکانا معلوم کرنے کے لیے مختلف ایجنسیاں آپس میں منصوبہ بندی کرتی ہیں اور ایک موقع تلاش کرتی ہیں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قاسم سلیمانی جنگ کے علاقے میں ایک لڑاکا فوجی تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ایران کے پاس امریکہ میں کچھ ایسا ہی کرنے کا موقع ہو تو وہ یہ ضرور کریں گے۔
یہ علاقائی کشیدگی کا حصہ ہے اور ہم مشرق وسطیٰ میں اس کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں۔ میرا نہیں خیال یہ تیسری جنگ عظیم میں تبدیل ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آگے کیا ہوگا؟
ظاہر ہے ایران اب مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔
یہ ایک ایسی وجہ نہیں تھی کہ حملہ نہ کیا جاتا۔ میں بے تکلفی سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ سلیمانی نے اس حملے کو خود اپنی طرف دعوت دی تھی۔
ان کے ہاتھوں پر امریکی فوجیوں کا خون تھا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے کو گذشتہ ایک دہائی کے دوران شر انگیز کارروائیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ صرف اس لیے کہ ٹرمپ ایران سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ سلیمانی کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔
مجھے نہیں لگتا انھوں نے یہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس صورتحال سے بچنا چاہتے تھے اور پہلے بھی ایسے اقدامات اٹھا سکتے تھے۔ لیکن سیاسی اعتبار سے وہ اس سے اپنے حامیوں میں ایک بڑے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔
مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے وعدوں کا کیا؟
صدر ٹرمپ جرمنی میں امریکی فوجی دستوں کو اتنا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے انتخابات کے سال میں ان کی طرف سے امریکی فوجی دستوں کو مشرق وسطی میں تعینات کیا جانا ناقابل فہم ہے۔
لیکن انھیں یہ بھی دکھانا ہے کہ امریکہ پر مزید دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔












