جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت: صدر ٹرمپ کی ایران کی جانب سے کسی کارروائی کے ردعمل میں 52 مقامات پر حملوں کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اب کسی امریکی شہری یا تنصیبات کو نشانہ بنایا تو وہ ایران میں 52 مقامات کو ’انتہائی تیزی اور سختی سے‘ نشانہ بنائے گا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان جمعے کو بغداد کے ہوائی اڈے کے باہر امریکی حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابومہدی مہندس سمیت کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکہ سے ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے اور سنیچر کو بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے کے جلوس کے چند گھنٹے بعد عراق میں امریکی سفارت خانے اور ایئربیس کے قریب راکٹ حملے بھی ہوئے تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایران کی جانب سے سامنے آنے والے شدید ردعمل پر مبنی بیانات کے بعد امریکہ نے مشرقِ وسطی میں تین ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں جبکہ امریکی شہریوں کو عراق سے نکل جانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
سنیچر کو راکٹ حملوں کے کچھ دیر بعد صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کی نئی دھمکی دی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے ہم پر حملہ کیا اور ہم نے ان پر جوابی حملہ کیا۔ اگر انھوں نے ہم پر دوبارہ حملہ کیا، جس سے گریز کرنے کا میں انھیں مشورہ دیتا ہوں، تو ہم ان پر اتنا سخت حملہ کریں گے جو ان پر پہلے نہ ہوا ہو گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران نے کسی بھی امریکی شہری یا تنصیب کو نشانہ بنایا تو امریکہ ’بہت تیزی اور شدت سے‘ ایسی 52 اہم تنصیبات اور مقامات پر حملہ کرے گا جو ایران اور اس کی ثقافت کے لیے نہایت اہم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ 52 اہداف پہلے ہی نشانے پر لیے جا چکے ہیں اور یہ ہندسہ (52 مقامات) ان 52 امریکی شہریوں کی مناسبت سے چنا گیا ہے جنھیں کئی برس قبل ایران نے یرغمال بنایا تھا۔
یاد رہے کہ سنہ 1979 کے آواخر میں تہران میں موجود امریکی سفارت خانے میں 52 امریکی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ یہ یرغمالی ایک سال سے زائد عرصے تک یرغمال بنا کر رکھے گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ کئی برسوں سے ایران ایک مسئلے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ امریکہ مزید دھمکیاں سننا نہیں چاہتا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ نے حال ہی میں فوجی ساز و سامان پر دو کھرب ڈالر خرچ کیے ہیں اور وہ ’اس نئے سامان میں سے کچھ ایران بھیجنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچائیں گے۔‘
صدر ٹرمپ کی ایران کے ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی آمیز ٹویٹس کے خلاف امریکی سیاستدانوں سمیت مختلف افراد کی جانب سے ردِ عمل بھی دیکھنے میں سامنے آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AOC
2020 کے امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ممکنہ امیدواروں میں سے ایک جو بائیڈن نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا ہے وہ ’غیرمعقول تر ہوتے جا رہے ہیں۔‘
امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن الیگزینڈرا اوکاسیو کورٹیز نے ایران کے ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ اقدام کو جنگی جرم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک جنگی جرم ہے۔ بےگناہ خاندانوں، بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کی دھمکی دینا جو کہ آپ ثقافتی مقامات کو نشانہ بنا کر کریں گے۔‘
انھوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’اس سے آپ ئہ تو مضبوط شخصیت اور نہ ہی اس سے آپ عمدہ حکمتِ عملی والے کہلائیں گے بلکہ یہ کر کے آپ ایک عفریت بن جائیں گے۔‘
قاسم سلیمانی کا جنازہ
سنیچر کو عراق کے دارالحکومت بغداد اور مقدس شہر کربلا میں قاسم سلیمانی کی نمازِ جنارہ کی ادائیگی کے بعد ان کی میت دیگر ایرانی ہلاک شدگان کی میتوں کے ہمراہ ایران پہنچا دی گئی ہے۔
ایرانی پرچم میں لپٹی یہ میتیں جنوب مغربی صوبے خوزستان میں واقع اہواز کے ہوائی اڈے پر لائی گئیں جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
اہواز میں ان افراد کے جنازوں کے جلوس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہاں سے ان کی باقیات کو ایران کے مقدس شہر مشہد اور قاسم سلیمانی کے آبائی علاقے کرمان لے جایا جائے گا۔
کرمان میں یہ سفر ختم نہیں گا اور یہاں سے ان کی باقیات کو تہران لے جایا جائے گا جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور پیر کو اہم تعلیمی اور کاروباری ادارے بھی بند رہیں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای پہلے ہی اپنے دفادار افسر کو لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ دے چکے ہیں۔ نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کے مطابق ایرانی رہنماؤں کو امید ہے کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت ایرانی قوم کو ایک ایسے وقت میں یکجا کر دے گی جب کہ وہ غیریقینی مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
اس سے قبل عراق میں بھی قاسم سلیمانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جنھوں نے عراقی پرچم اور ملیشیا کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور وہ امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔
سنیچر کو مظاہرین جنازے کے جلوس کے آغاز سے قبل علی الصبح ہی بغداد میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ان افراد نے جنرل سلیمانی اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور یہ امریکہ، اسرائیل کے خلاف اور ایران کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

تجزیہ: جوناتھن مارکس، دفاعی نامہ نگار
قدس فورس کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد سے ایران پہلے ہی سخت انتقامی کارروائیوں کی دھمکی دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ (ایران کی جانب سے) ممکنہ کارروائی کی صورت میں پہلے متنبہ کر دیں اور یہ واضح کر دیں کہ اگر تہران اپنی دھمکیوں پر عمل پیرا ہوا تو کیا ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کئی حوالوں سے متجسس ہیں، خاص کر 52 ایرانی مقامات کو نشانہ بنانے کے علامتی اظہار سے، یہ بات انھوں نے نومبر 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے میں 52 امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کے تناظر میں کی ہے۔
ان مقامات میں ’ایرانی ثقافت‘ اس بات کا اظہار ہے کہ امریکی ٹارگٹ ایرانی رہنماؤں، فوجی اور معاشی تنصیبات سے کہیں آگے کے ہیں۔
صدر ٹرمپ قوت مزاحمت کا توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اب واضح طور پر گیند ایران کی کورٹ میں ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ تہران کس طرح اپنا ردعمل دینے میں نا کام ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جب سے تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کیا ہے تب سے وہ متضاد پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس میں معاشی دباؤ بڑھنا اور عسکری کارروائی کی دھمکی شامل ہے لیکن درحقیقت صدر ٹرمپ اتنا نہیں کر رہے جتنا وہ کہہ رہے۔ انھوں نے ایسا اس وقت بھی نہیں کیا جب ایران نے امریکہ کا ایک ڈرون مار گرایا اور سعودی عرب میں تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سب سے بڑھ کر انھوں نے بارہا خطے (مشرق وسطی) میں اپنی اور واشنگٹن کی فوجی مداخلت سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔

بغداد میں راکٹ حملے
عراق کے دارالحکومت بغداد میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ کے جلوس کے اختتام کے چند ہی گھنٹے بعد متعدد دھماکے ہوئے ہیں۔
بغداد میں امریکی سفارت خانے کے قریب گرین زون کو ایک راکٹ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جبکہ دارالحکومت کے شمال میں واقع ایئربیس پر متعدد راکٹ داغے گئے۔ اس ایئربیس پر امریکی فورسز کے اہلکار موجود ہوتے ہیں۔
عراقی سکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق ان راکٹ حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
راکٹ حملوں کی نوعیت کیا تھی؟
عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغداد کے گرین زون میں واقع ’سلیبریشن سکوائر‘ پر کم از کم ایک راکٹ (مارٹر راؤنڈ) داغا گیا جبکہ ایک راکٹ جدریا کے علاقے میں گرا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے قبل بلد ایئربیس پر دو راکٹ داغے گئے جس کے بعد حالات کا جائزہ لینے کے لیے ڈرونز فضا میں پرواز کرتے رہے۔
ان راکٹ حملوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ حال ہی میں عراق میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران نواز جنگجوؤں پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔













