امریکہ کی عراق سے فوجی انخلا کے خط کی تردید

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی وزیرِ دفاع نے عراق کے مطالبے پر وہاں موجود امریکی افواج واپس بلانے کی اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔
قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابومہدی مہندس کی گذشتہ جمعے کو بغداد میں امریکی ڈرون کے حملے میں ہلاکت کے بعد ہی عراقی پارلیمان نے قرارداد کے ذریعے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں موجود غیرملکی افواج کو واپس بھیج دیا جائے۔
اس قرارداد کے پیش کیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی افواج کو عراق چھوڑنے کا حکم دیا تو اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد پیر کو ایک امریکی جنرل کا خط سامنے آیا جس میں امریکی افواج کے عراق سے انخلا کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
خط میں کہا گیا تھا کہ عراقی پارلیمنٹ کی طرف سے امریکی افواج کے عراق سے نکل جانے کے مطالبے کے بعد امریکہ ’آنے والے دنوں اور ہفتوں میں اپنی افواج کو کہیں اور منتقل‘ کرے گا۔
تاہم امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے ایسے کسی اقدام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’عراق سے انخلا سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔‘
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور ایران کی طرف سے ’شدید انتقام‘ کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کی موت کا بدلہ تبھی پورا ہو گا جب امریکہ کو خطے سے نکال باہر کیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
خط میں کیا تھا؟
بظاہر یہ خط عراق میں امریکی افواج کی ٹاسک فورس کے سربراہ، بریگیڈیر جنرل ولیم ایچ سییلی کی جانب سے مشترکہ آپریشنز کے نائب ڈائریکٹر عبد الامیر کو بھیجا گیا تھا۔
اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ’سر، جمہوریہ عراق کی خودمختاری کے احترام کے لیے اور جیسا کہ عراقی پارلیمنٹ اور وزیرِ اعظم نے درخواست کی ہے، سی جے ٹی ایف او آئی آر (مشترکہ ٹاسک فورس ۔ آپریشن انحیریٹنس ریزولوو ) آنے والے دنوں اور ہفتوں میں آگے نقل و حرکت کی تیاری کے لیے اپنی افواج منتقل کرے گا۔‘
خط میں کہا گیا ہے ’کم روشنی والے اوقات میں فضائی ٹریفک میں اضافے سمیت کچھ ایسے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عراق سے محفوظ اور موثر انخلا کو یقینی بنایا جاسکے۔‘
اس سے ’یہ خیال بھی ختم ہو جائے گا کہ ہم بغداد کے آئی زی (گرین زون) میں مزید اتحادی افواج لا رہے ہیں۔
اس کی وضاحت کیسے کی گئی ہے؟
واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک ایسپر کا کہنا تھا ’عراق چھوڑنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس خط میں کیا ہے۔۔۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور اس میں کیا تھا۔‘
’لیکن عراق چھوڑنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ بات ختم‘
اس کے بعد اعلی ترین امریکی فوجی اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مارک ملی ایک بریفنگ میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ خط ’ایک غلطی‘ تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
خط کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں غلط الفاظ کا انتخاب کیا گیا تھا، اس پر دستخط نہیں کیے گئے تھے اور اسے جاری نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ اسے عراقیوں سمیت لوگوں کی رائے جاننے کے لیے پھیلایا جا رہا تھا۔
’ فضائی نقل و حرکت میں ہم اہنگی کے لیے اس خط کو کچھ اہم عراقی فوجیوں کو بھیجا گیا تھا۔ پھر یہ ایک فوجی سے دوسرے تک پھیلتا ہی چلا گیا اور اس طرح آپ تک پہنچا۔ اور اب یہ ایک رکاوٹ بن گیا ہے۔‘
جنرل ملی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی فوجی عراق سے انخلا نہیں کر رہے۔
آخر ہو کیا رہا ہے؟
جنرل ملی کا کہنا تھا کہ عراقیوں کے ساتھ اس معاملے پر کام کیا جا رہا ہے لیکن انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
بی بی سی کے دفاعی نمائندے جوناتھن بیل کے مطابق اتحادی ذرائع نے انھیں بتایا کہ خط کا مقصد عراقیوں کو یہ بتانا تھا کہ اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے امریکہ اپنی فوجیں گرین زون سے باہر لے جا رہا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ عراق چھوڑ رہا ہے۔
دوسرے اتحادی ذرائع نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے الگ الگ صحافیوں کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد بغداد میں فوجی اہلکاروں کی تعداد میں کمی کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور دیگر افواج عراق میں کیا کر رہی ہیں؟
اس وقت عراق میں 5000 سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں جو مشترکہ ٹاسک فورس ۔ آپریشن انحیریٹنس ریزولوو کا حصہ ہیں جو سنہ 2014 میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
اس اتحاد میں ایک درجن کے قریب ممالک شامل ہیں جن کا مقصد جنگ کے علاوہ دوسری امداد کی فراہمی ہے۔
لیکن اس ٹاسک فورس کا اصل مقصد عراقی افواج کی تربیت کرنا ہے۔
اتوار کے روز عراقی ممبران پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سلیمانی کے قتل کے بعد عراق سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکی فوج کو نکلے کا کہا گیا تو عراق کے خلاف سخت پابندیاں لگائیں گے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم نے وہاں انتہائی مہنگا ہوائی اڈہ بنایا ہے جس پر اربوں ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ جب تک وہ ہمیں اس کا معاوضہ ادا نہیں کرتے، اس وقت تک ہم نہیں نکل رہے۔‘












