’ٹرمپ قوم کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
سابق امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاؤل کی افشا ہونے والی ای میلز کے مطابق انھوں نے رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو قوم کے لیے باعث ’شرمندگی‘ قرار دیا تھا۔
کولن پاؤل جن کا اپنا تعلق بھی رپبلکن پارٹی سے تھا اور وہ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے کا یہ بیان ان کی ذاتی ای میل کے ہیک ہونے کی صورت میں منظرِ عام پر آیا ہے۔
ان کی یہ ای میل ڈی سی لیک ڈاٹ کام پر شائع کی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ نے حال ہی میں بہت سے اہم افراد کے ای میل اکاؤنٹ ہیک کیے ہیں۔
مسٹر پاؤل جو کہ اب تک کی انتخابی مہم میں خاموش دکھائی دے رہے تھے نے کہا ہے کہ وہ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے مگر انھوں نے اپنے اس بیان سے انکار بھی نہیں کیا۔
ان کے ترجمان نے بھی سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے اور انھیں اندازہ نہیں کہ یہ کس نے کیا اور وہ اس وقت اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘
سابق امریکی وزیرِ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ان خیالات کا اظہار رواں برس 17 جون کو صحافی ایملی میلر کو بھجوائی گئی ایک ای میل میں کیا تھا جو ان کی سابقہ معاون رہ چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسٹر ٹرمپ ’بین الاقوامی اچھوت‘ ہیں اور ’خود کو تباہ کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
ایک الگ ای میل میں جو گزشتہ ماہ 21 اگست کو لکھی گئی تھی مسٹر پاؤل نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تب بھی تنقید کی جب انھوں نے صدر اوباما کی پیدائش کے ریکارڈ کے حوالے سے سوال اٹھایا تھا کہ کیا اوباما امریکہ میں پیدا ہوئے تھے؟
ای میل میں لکھا گیا کہ ’ہاں پیدائش کے ریکارڈ سے متعلق تمام تحریک نسل پرستی پر مبنی تھی۔‘
کولن پاؤل نے اپنی ای میل میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔
ای میل میں انھوں نے مسز کلنٹن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے ’افسوسناک بات ہے ۔۔۔ ایچ آر سی دو سال قبل یہ سب کچھ ختم کر سکتی تھیں سب کو سچ بتا کر کہ انھوں نے کیا کیا اور مجھے اس سے الگ رکھ کر۔‘
خیال رہے کہ مسز کلنٹن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں دیے گئے بیان میں معمول میں ذاتی ای میل کے استعمال پر بات کرتے ہوئے مسٹر پاؤل کی جانب سے ذاتی اے او ایل اکاؤنٹ کے استعمال کا حوالہ بھی دیا تھا۔
گذشتہ برس اپنے بزنس پارٹنر جیفری لیڈز کو بھجوائی گئی ایک ای میل میں پاؤل نے لکھا تھا کہ ایچ آر سی جس بھی چیز کو ہاتھ لگاتی ہے وہ اس پر زعم کے ساتھ جذباتی انداز اختیار کرتی ہے۔‘







