’غزہ میں ورلڈ ویژن کے سربراہ نے حماس کو فنڈز فراہم کیے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل نے غزہ میں ایک عالمی خیراتی ادارے ’ورلڈ ویژن‘ کے سربراہ پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے لیے لاکھوں ڈالر کی بیرونی امداد منتقل کرنے کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی شن بیت سروسز کا کہنا ہے کہ ورلڈ ویژن چیرٹی کی جانب سے جو بھی فنڈز غزہ بھیجے گئے اس میں سے تقریباً 60 فیصد کی رقم حماس کو فراہم کی گئی۔
اس کا الزام ہے کہ خیراتی ادارے کے سربراہ محمد حلابی کو حماس نے غزہ آپریشن کے لیے ایک عشرے قبل بھرتی کیا تھا۔
لیکن خیراتی ادارے ورلڈ ویژن کا کہنا ہے کہ اسے اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ یہ الزامات درست ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے متعلق اپنے آپریشن کا مستقل حساب کتاب کرتی ہے اور ان الزامات سے اسے صدمہ پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس بارے میں ہمیں جو بھی شواہد فراہم کیے جائیں گے ہم اس کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیں گے اور شواہد کی بنیاد پر مناسب اقدامات کریں گے۔‘
اسرائیل امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک حماس کو ایک شدت پسند تنظیم مانتے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے ایک ترجمان سمیع ظہری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسٹر حلابی سے ان کی تنظیم کا کوئی واسطہ نہیں ہے اس لیے اسرائیل کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور اس کا مقصد ہمارے لوگوں کو دبانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر حلابی پر انھیں الزامات کے پس منظر میں آسٹریلیا نے ورلڈ ویژن کو اس وقت تک امداد نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جب تک اس معاملے کی تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی۔
شن بیت کا کہنا ہے کہ محمد حلابی کو ایریز کی بارڈر کراسنگ پر جون میں گرفت کیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف دہشت گردی کو فنڈ کو کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔







