غزہ میں سزائے موت پر عملدرآمد کے اعلان پر افسوس

،تصویر کا ذریعہAFP

حماس کی جانب سے غزہ میں سزائے موت پر عملدرآمد کرنے کے اعلان پر اقوام متحدہ نے پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے اقوام متحدہ کے سفارتکار نکولے مادینوو کا کہنا ہے کہ ان کو اس بات پر شک ہے کہ جن افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ان کے مقدمے شفاف تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اطلاعات پر کافی پریشان ہیں کہ چند سزائے موت پر عمدرآمد کھلے عام کیا جائے گا۔

ایک فلسطینی گروپ کے مطابق 2007 سے اب تک 67 افراد کی سزائے موت پر عمدرآمد کیا گیا ہے۔

اس تعداد میں ان افراد کی موت شامل نہیں ہے جن کو حماس نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے الزام میں مارا۔ 2014 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حماس نے 25 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

فلسطینی پارلیمنٹ میں حماس کے ممبران نے بدھ کو اعلان کیا تھا انھوں نے غزہ میں سزائے موت پر عملدرآمد کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم اس قدم کی منظوری کی توثیق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے نہیں کی ہے۔

حماس کے ممبر پارلیمنٹ یحیٰ موسیٰ نے نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ’معاشرے میں امن اور بڑھتے ہوئے قتل کے واقعات کو روکنے کے لیے ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ سزائے موت پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔‘