ابو خضیر کے ایک اور قاتل کو عمر قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل میں ایک فلسطینی نوجوان کو سنہ 2014 میں زندہ جلانے والے اسرائیلی گروہ کے سرغنہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یروشلم کی ایک عدالت نے 31 سالہ یوسف ہیم بین ڈیوڈ کو مجرم قرار دیا۔ ان کی جانب سے عالم جنون میں فعل سرزد ہونے کی بنا پر رحم کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
16 سالہ محمد ابو خضیر کے قتل کے الزام میں پہلے ہی دو نوجوان جیل میں ہیں۔
* <link type="page"><caption> فلسطینی نوجوان کو’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/07/140706_israel_arrest_khdair_murder_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
انھیں بظاہر مغربی پٹی میں تین اسرائیلیوں کے قتل کے بدلے میں مارا گیا تھا۔
یروشلم کی ضلعی عدلت نے قتل کے الزام میں عمر قید اور دیگر جرائم کے لیے 20 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں 150000 شیکل یا 40000 ڈالر بطور جرمانہ مقتول کے خاندان کو ادا کرنا ہوگا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ بات کرتے ہوئے ابو خضیر کے والد کا کہنا تھا وہ اسے ’جیل میں ہی مرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے پہلے مجرم بن ڈیوڈ نے عدالت سے کہا کہ وہ معافی مانگنا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ’میں ان کے خاندان سے معدزت خواہ ہوں۔ وہ میں نہیں تھا۔ میں آپے سے باہر ہو گیا تھا۔‘
حماس کی جانب سے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور قتل کے دو دن بعد ہی محمد خضیر کی لاش دو جولائی سنہ 2014 کو مغربی یروشلم کے جنگل سے ملی تھی۔
یہ ہلاکتیں اس وقت اسرائیل اور غزہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کا حصہ تھیں۔
بین ڈیوڈ کے وکیل نے اس حوالے سے ایک ماہر نفسیات کا بیان پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس واقعے میں قتل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
اس قتل میں ان کے دو 16 اور 17 سالہ معاونین کو بھی عمر قید یعنی 21 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تینوں ملزمان نے ابو خضیر کو سڑک سے اغوا کیا اور پیٹنے سے بے ہوش کرنے کے بعد ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ بین ڈیوڈ وہ گاڑی چلا رہے تھے جس میں ابو خضیر کو اغوا کیا گیا بلکہ انھیں زندہ جلانے کے لیے آگ بھی انھوں نے لگائی۔
ابو خضیر کے اغوا اور قتل کے دوران بین ڈیوڈ قتل کیے جانے والے اسرائیلی لڑکوں کے نام دہراتے رہے۔
اسرائیلی لڑکوں کے قتل کے الزام میں دو مشتبہ فلسطینیوں کو اسرائیلی فورسز نے ستمبر 2014 میں ایک جھڑپ کے دوران مار دیا تھا۔
جبکہ ایک تیسری شخص حصام قواصمے کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔







