سوشلستان: دنیا کا سٹیٹس#____#دعاکریں____

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان پر گذشتہ ایک ہفتہ ایدھی کا انتقال اور ان کا سوگ رہا اور جمعہ کی صبح سے ہی فرانس کے شہر نیس میں دہشت گردی کا واقعہ چھایا رہا جس میں آخری خبریں آنے تک 84 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ مگر سوشلستان میں اس ہفتے ہم بات کریں گے کہ کیسے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے کا محاورہ اب پرانا ہو گیا ہے۔
نیکی کا پرچار جھوٹ کی بنیاد پر

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی وہ تصویریں جن میں وہ اپنی سرکاری رہائش گاہ نمبر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے اپنا سامان ڈھوتے دکھائی دیے ہیں کئی لوگوں نے جذبے اور جوش کے ساتھ شیئر کی ہوں گی جن کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کی شان میں بھی دو دو لائنیں لازمی بنتی تھی ورنہ حق ادا نہ ہوتا۔
مگر اکثریت کو یہ نہیں پتا تھا کہ جو تصاویر شیئر کی گئیں وہ 2007 کی ہیں جب ڈیوڈ کیمرون جنوبی لندن میں ایک نئے گھر میں منتقل ہو رہے تھے۔ مگر تاریخ کون دیکھتا ہے جب مدعا یہی ہو کہ ایک تصویر کی بنیاد پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنی ہے؟
افشاں مصعب نے لکھا کہ یہ سب ’گمراہ کُن ہونے کے علاوہ اخلاقی جرم بھی ہے۔ جس بات کی بنیاد ہی جھوٹ ہو اور ملاوٹ سے ہو اس کے خالص اور جائز ہونے پر کیسے یقین کیا جائے؟‘
مان لیا کہ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ دیکھو ایک رکنِ پارلیمان اپنا سامان ڈھو رہا ہے مگر تصویر اصل کیوں نہیں دکھائی جاتی اور جو دکھائی جاتی ہے وہ مکمل کیوں نہیں دکھائی جاتی؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
اور مکمل تصویر میں مزدور سامان اٹھا رہے ہیں جن کی مدد کو رکنِ پارلیمان ڈیوڈ کیمرون موجود ہیں اور ایک کیمرہ مین بھی ٹہلتا ٹہلتا یہ تصویر لے لیتا اور اخبار میں خبر چھپ جاتی ہے۔
ایسی پبلسٹی کس سیاستدان کو نہیں چاہیے؟
اور اگر سینئر صحافی بھی بغیر تصدیق کے ایسی چیزیں آگے چلائیں گے تو باقی عام سوشل میڈیا کے صارفین پر کوئی کیا تبصرہ کرے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا دکھ کا اظہار کافی ہے؟

دہشت گردی کا واقعہ، بریکنگ نیوز، مزید تفصیلات، بچ جانے والوں کی تلاش، دہشت گرد مل گیا یا نہیں ملا، سرچ آپریشن جاری، سوشل میڈیا کھنگالنے کا عمل، ہیش ٹیگز، ٹرینڈز، اس دوران مذمت، شدید مذمت۔ جگہ کی مناسبت سے فیس بُک کی خصوصی سہولیات اور اگلے واقعے تک سب نارمل اور پھر یہی سب دوبارہ دہرائے جانے کا عمل۔

فرانس میں ہونے والے واقعے کے بعد نیوز روم میں اور سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے یہ بات کی کہ یہ گھناؤنا چکر کب ختم ہو گا؟
مصنف پاؤلو کوئلو نے ہم سب کے مشترکہ پریشانی پر ہی ٹویٹ کی کہ ’کیا دعا کافی ہے؟ مجھے نہیں پتا مگر میرے پاس کرنے کے لیے اس کے علاوہ کیا ہے؟ خدایا تو ہمیں ہمت دے۔‘
ریاض منٹی نے لکھا کہ دنیا کے موجودہ سٹیٹس (فیس بُک کا سٹیٹس) کی حالت کچھ یوں ہے۔
#_____________#دعاکریں_____
کسے فالو کریں
اس ہفتے ٹوئٹر کی دنیا کے ایک نوجوان <link type="page"><caption> عبداللہ سعد</caption><url href="https://twitter.com/kursed" platform="highweb"/></link> سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں جو کرسڈ کے نام سے ٹویٹ کرتے ہیں۔ عبداللہ دفاعی امور خصوصاً اس کی تکنیکی سائیڈ کے حوالے سے نہ صرف معلومات رکھتے ہیں بلکہ انھیں سب کے ساتھ گاہے بگاہے شیئر کرتے رہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ایئروسپیس کے حوالے سے اُن کی ٹویٹس بہت معلوماتی اور دلچسپی سے بھرپور ہوتی ہیں۔
اس ہفتے کی دو تصاویر

،تصویر کا ذریعہtwitter
بہت سے لوگوں کو گذشتہ ہفتے کے دوران اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ایک جعلی سرٹیفکیٹ سے بےقوف بنایا گیا۔ پہلے تو لوگوں نے بغیر تصدیق کے اس پر خبریں شائع کیں اور اس کے ساتھ ہی اسے بغیر سوچے سمجھے ری ٹویٹ کیا۔
کیا کسی نے نہیں سوچا کہ آخر کیوں اقوامِ متحدہ کا ایک ادارہ ایک مذہب کو ایسا سرٹیفیکٹ جاری کرے گا؟
اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا مذہب کو کسی ایسے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت بھی ہے؟

محمد عامر لارڈز کے میدان میں ایک بار پھر۔ اسے کہتے ہیں ’کم بیک‘۔







