’ججز کی ٹکرز اور جرنیلوں کی ٹویٹس میں دلچسپی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان میں یہ ہفتہ اورلینڈو اور افغانستان کے حوالے سے مصروف رہا۔ جہاں اورلینڈو کے واقعے کے بعد اچانک سے ہزاروں افراد انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین بن گئے وہیں جنسی رجحانات پر بھی رہنما اصول بیان کرنے والوں کی کمی نظر نہیں آئی۔ اور یہ یقیناً پہلی بار نہیں ہوا ہے نہ آخری بار ہو گا اس لیے دیکھتے ہیں کہ سوشلستان میں اس ہفتے کیا ہوتا رہا۔
’آئی ایس پی آر کی مانیٹرنگ‘
جمعرات کو سپریم کورٹ نے وکیل اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کی جانب سے فوج کے میڈیا سیل کے کام کے حوالے سے بات کرنے پر انھیں ایک علیحدہ درخواست جمع کروانے کی ہدایت کی۔
عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب سپریم کورٹ حکومت کے سیکرٹ فنڈ کےبارے میں بات کر رہی ہے تو فوج کا بھی میڈیا سیل ہے تو جہاں سب پر نظر رکھی جا رہی ہے تو آئی ایس پی آر کو بھی پیسہ ملتا ہے اسے بھی دیکھا جائے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
فوج کے موجودہ سربراہ جنرل راحیل شریف کے دور میں فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے بہت ترقی کی ہے اور اس کے اثرورسوخ میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جہاں روایتی میڈیا سے روابط مزید بڑھے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر نہ صرف آئی ایس پی آر بلکہ اس کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ بہت سرگرم ہیں اور اسے پروموٹ کرتے ہیں۔
جنرل عاصم باجوہ نے کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے دوران میڈیا مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے بعد سے اب تک خبر اکثر و بیشتر اسی ٹویٹ تک ہوتی جسے چینل اور اخبارات سکرین شاٹ لے کر پیٹتے ہیں۔
سلمان حیدر نے فیس بُک پر لکھا ’ میرے خیال میں پرائیویٹ میڈیا چینلز کی مورل پولیسنگ سے زیادہ ضروری ہے کہ ان چیزوں کی طرف توجہ دی جائے۔ آئی ایس پی آر انٹر سروس پبلک ریلیشننگ کے علاوہ دیگر خدمات ادا کرنے میں کافی دلچسپی لیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی مانیٹرنگ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ پرانے وقتوں میں جرنیلوں کی بندوق اور جج کے فیصلے بولا کرتے تھے اب جج ٹکرز اور جرنیل ٹویٹس کے ذریعے گفتگو میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
احترام رمضان کیا صرف کھانے پینے سے پرہیز ہے؟

،تصویر کا ذریعہHanif Samoon
گذشتہ ہفتے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں اسی سالہ بزرگ گوکل داس پر پولیس نے روزے کے دوران مبینہ طور پر کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے اور کھانے پر تشدد کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زخمی گوکل داس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس پر حکام کو پولیس اہلکار کو گرفتار کرنے کا خیال آیا۔
دوسری جانب پشاور میں اوور ٹیکنگ کرنے پر جھگڑا ہوا جس کی ویڈیو اس وقت وائرل ہوئی جس میں واضح طور پر ایک کم سن لڑکے کو بندوق اٹھائے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان دونوں صورتحال میں جو تضاد نظر آتا ہے اس پر سوشلستان میں کم ہی بات ہوئی کہ کیا احترامِ رمضان صرف کھانے پینے کی حد تک محدود ہے؟ صبروتحمل اور برداشت کیا روزے اور رمضان کے ثواب کا حصہ نہیں؟
وکیل اور کالم نگار یاسر لطیف ہمدانی نے طنزیہ طور پر لکھا ’گوکل داس کو مارنے کے واقعے سے یہ خیال ایک بار پھر تقویت پکڑتا ہے کہ پاکستان میں ایک نیم خودمختار علاقہ ہونا چاہیے نارمل لوگوں کے لیے۔‘
اور پولیس اہلکار جنھوں نے گوکل داس پر تشدد کیا اُن کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے انھیں حوالات میں بند کیا گیا اور اس کی فوری تصویر لے کر سوشلستان پر عام کی گئی اور پھر اس پر حسبِ توقع اور حسبِ معمول تبصرے کیے گئے۔
فالو کسے کریں؟
ضربِ عضب کے دو سال گزرنے پر بہت سارے تجزیے تبصرے شائع کیے گئے مگر اس آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے جوانوں کی قربانیوں کی بھی ایک داستان ہے جو بہت کم منظرِ عام آتی ہے۔ سوشلستان جیسے باقی موضوعات پر بات کرنے کی جگہ ہے وہیں ایسے کئی اکاؤنٹس ہیں جن پر آپ کو یہ معلومات ملیں گی۔
ٹوئٹر اکاؤنٹ <link type="page"><caption> ThePakistanArmy</caption><url href="https://twitter.com/ThePakistanArmy" platform="highweb"/></link>@ کہنے کو آفیشل نہیں ہے مگر اس پر بہت ساری معلومات ایسی ہوتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ محاذ پر لڑنے والے فوجی کون ہیں ان کے اہلِ خانہ کون ہیں۔ اور ان کی کہانی کیا ہے جسے اعدادوشمار کے اس ریلے میں ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
اس ہفتے کی تصاویر
ہر ہفتے کی طرح اس ہفتے کی تصاویر جن سے جڑی کہانی اپنی ذات میں ایک علیحدہ کالم چاہتی ہے۔

کیا ملک کے دارالحکومت میں ایسی پبلک ٹرانپسورٹ کی سہولت ہونی چاہیے؟
یہ دریائے سندھ میں پائی جانے والی ڈولفن کی قسم بھُلن ہے جسے مقامی صحافی حنیف سموں کے بقول مقامی افراد نے خطرناک مخلوق سمجھ کر مار دیا۔







