دنیا استنبول کے غم میں نڈھال کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان میں لوگ اس وقت محمود خان اچکزئی کو افغانستان بھجوانے کی باتیں کر رہے ہیں جس کی وجہ ان کا ایک افغان اخبار کو انٹرویو ہے۔ دوسری طرف ترکی کا افسوس اور صدمہ اپنی جگہ غالب ہے۔ آئیے اس ہفتے اور کیا ہوا پڑھتے ہیں۔
وائرل سوشل ہمدردیاں

،تصویر کا ذریعہTwitter
آپ میں سے اکثر نے مشہور اداکار اکبر سبحانی کی تصویر دیکھی اور شیئر کی ہو گی جس میں وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ اور یقیناً آپ نے ترس کھا کر یا غصے میں یا جوش میں تبصرے کے ساتھ اسے شیئر بھی کیا ہو گا کہ یہ کیا ملک ہے جس میں اتنے عظیم اداکار اس حالت میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔
مگر نہ یہ تصویر شیئر کرنے والے اور نہ اس پر تبصرے لکھنے والوں نہ یہ زحمت کی کہ یہ جانیں کہ اکبر سبحانی کو ان کی ہمدردی کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔
تنگ آ کر اکبر سبحانی کی بیٹی فریحہ سبحانی نے فیس بک کا سہارا لیا اور اپنے والد کی تصویر کو اس طریقے سے شیئر کرنے کو ’ڈرامہ‘ بلکہ ’پراپیگینڈہ‘ قرار دیا۔
فریحہ نے لکھا کہ اکبر سبحانی کی تصویر ایک سین فلمبند کرنے کے دوران لی گئی جس کے لیے انھوں نے اس طرح کا حلیہ بنایا ہوا تھا اور وہ ان دنوں کم کام کر رہے مگر ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کچھ نہیں کر رہے یا کچھ نہیں کما رہے‘۔
انھوں نے لکھا کہ اکبر سبحانی نے فلم مور اور منٹو میں کام کیا اور وہ تدریس بھی کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر اُن کے اردگرد ایک محبت کرنے والا خاندان ہے۔
آخر میں انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایسا بے بنیاد پراپیگینڈا کرنے والے کم از کم پہلے تصدیق تو کر لیا کریں۔
اب جہاں فریحہ نے یہ سب لکھا وہیں یہ بھی لکھا کہ وہ اسے شروع میں نظرانداز کرتی رہیں جو کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے قابل توجہ امر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا پر اگر اس طرح کی خبر یا بات کو شروع سے ہی رد کر دیا جائے اور اسے پھیلایا جائے تو امکانات ہیں کہ جھوٹ دب جائے گا جیسا کہ کل ندیم جعفری پر فائرنگ کے حوالے سے افواہیں شروع ہوئیں جس کے فوراً بعد ندیم نے اپنی ویڈیو جاری کی اور اس خبر کو رد کیا اور یوں یہ خبر دب گئی۔
دنیا استنبول کے غم میں نڈھال کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہTWITTER
استنبول کے ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد فیس بُک نے ترک جھنڈے میں پروفائل پکچر کو ملبوس کرنے کا آپشن نہیں دیا اور اس پر بڑی تعداد میں لوگوں نے تنقید کی۔
پیرس اور برسلز حملوں کے بعد سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا میں اس خبر کی کوریج کے حوالے سے سوالات اٹھنا معمول کی بات ہے کہ پیرس پر اتنی کوریج کیوں اور بیروت یا لاہور پر کیوں نہیں؟
جہاں صارفین کی جانب سے خبروں میں دلچسپی میں امتیاز برتنے کی بات درست ہے وہیں سوشل میڈیا ویب سائٹس کی جانب سے ایسے مواقع پر مختلف سہولیات کی فراہمی میں امتیاز برتنے کی بات بھی درست ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر میں اپنی پروفائل کی تصویر کو ترکی یا فرانس کے جھنڈے میں نہیں لپیٹتا تو کیا اس سے یہ مراد لینا درست ہے کہ مجھے اتنا دکھ نہیں جنتا ایسا کرنے والے کو ہے؟
اس ہفتے کون سوشل ہے؟
نوربرٹ المیڈا ٹوئٹر پر ایک سرگرم شخصیت ہیں اور خصوصاً ٹوئٹر پر سکیورٹی اور حفاظت کے حوالے سے ٹویٹس کرتے ہیں۔ انھیں فالو کرنے سے آپ کو نہ صرف اپنی حفاظت بلکہ اپنے گھروں، علاقے کی حفاظت کے اہم اور بنیادی نکات پر تفصیلی ہدایات اور معلومات ملیں گی۔ آپ انھیں <link type="page"><caption> norbalm@</caption><url href="https://twitter.com/norbalm" platform="highweb"/></link> پر فالو کر سکتے ہیں۔
اس ہفتے کی تصاویر
ہر ہفتے کی طرح اس ہفتے کی دو تصاویر جن کی پیچھے ایک کہانی ہے۔

،تصویر کا ذریعہbissmahmehmud
یہ تصویر بسمہ محمود نے ٹوئٹر پر شیئر کی۔

احتجاج کے لیے لکھا گیا ایک بینر جو فیس بُک پر ایک صارف نے بھجوایا۔







