امریکہ کا کم جونگ کے خلاف پابندیوں کا اعلان

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کے خلاف پہلی مرتبہ پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کے محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سربراہ کم جونگ اُن شمالی کوریا میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں۔
امریکہ نے شمالی کوریا کے رہنما کے علاوہ دس اور حکام کو بلیک لسٹ کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے اس پابندی کے بعد شمالی کوریا نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
امریکہ کی ان پابندیوں کے بعد وہ کسی امریکی شہری کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے ہیں اور امریکہ میں اُن کی جائیداد اور اثاثے بھی منجمد ہوں جائیں گے۔
یاد رہے کہ شمالی کوریا کو اپنی جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے پہلے ہی کئی پابندیوں کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی حالیہ پابندیوں سے شمالی کوریا مزید تنہائی کا شکار ہوں گا۔
محکمۂ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کم جونگ اُن کی سربراہی میں شمالی کوریا میں عدم برداشت، ظلم اور عدالتی قتل سمیت تشدد اور جبری مشقت میں اٰضافہ ہوا ہے اور ان کے اپنے ہی عوام کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان پابندیوں کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار قیدی شمالی کوریا کی جیلوں میں قید ہیں جہاں اُنھیں تشدد، جنسی طور پر حراساں کیا جاتا ہے اور کئی پھانسی دی جاتی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے تسلیم کیا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ ان پابندیوں کے بعد کم جونگ اُن کے رویے میں تبدیلی آئے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے اس سے پہلے شام کے صدر بشار الاسد اور لیبیا کے صدر محمد قذافی کے خلاف بھی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔







