شمالی کوریا: ’پابندیوں کا جواب‘ سمندر میں میزائل داغ کر

میزائل فائر کرنے کے عمل کو دیکھا گیا ہے جن کے نشانے پر کوئی خاص ہدف نہیں تھا اور نا ہی اس سے کوئی خطرہ لاحق تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیزائل فائر کرنے کے عمل کو دیکھا گیا ہے جن کے نشانے پر کوئی خاص ہدف نہیں تھا اور نا ہی اس سے کوئی خطرہ لاحق تھا

جنوبی کوریا کے وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل سے کم فاصلے تک مار کرنے والے کم از کم چھ میزائل سمندر میں داغے ہیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے بظاہر یہ ردعمل اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی نئی سخت پابندیوں کے نفاذ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ فوج نے میزائل فائر کرنے کے عمل کو دیکھا ہے جن کے نشانے پر کوئی خاص ہدف نہیں تھا اور نہ ہی اس سے کوئی خطرہ لاحق تھا۔

شمالی کوریا نے گذشتہ جنوری میں جوہری تجربہ کیا تھا جس کے جواب میں اس پر نئی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کو منظور کر لیا ہے جس میں شمالی کوریا پر نئی جامع عالمی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں اس پر دو دہائیوں کے درمیان عائد کی گئی پابندیوں میں اب تک سب سے سخت ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا سے باہر جانے والا یا آنے والے کسی بھی جہاز یا کشتی کی جانچ کی جائےگی جبکہ اس کے ساتھ ہی 16 افراد اور 12 مختلف تنظیموں کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گيا ہے۔

پابندیوں کے نفاذ کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ ’آج، عالمی برادری نے، ایک ہی آواز میں بات کرتے ہوئے، شمالی کوریا کو سادہ سا پیغام دیا ہے کہ شمالی کو ریا کو خطرناک پروگرام ترک کرنے ہوں گے اور اسے اپنی عوام کے لیے بہتر راستہ اپنانا ہوگا۔‘

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کو منظور کر لیا ہے جس میں شمالی کوریا پر نئی جامع عالمی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہONU

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کو منظور کر لیا ہے جس میں شمالی کوریا پر نئی جامع عالمی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے نفاذ سے علاقے میں تناؤ مزید بڑھے گا، خاص طور پر شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا نے بھی جنوبی کوریا کے صدر پارک جیون کے خلاف سخت نکتہ چینی شروع کر دی ہے اور ان کے لیے ’تاریک غار میں رہنے والے چمگادڑ‘ جیسے نازیبا الفاظ استمال کیے ہیں۔

امریکہ، جاپان اور اس کے مغربی اتحادی نئی سخت پابندیوں پر فوری نفاذ کے قائل تھے اور ممکنہ حد تک وسیع پیمانے پر جامع پابندیاں نافذ کرنا چاہتے تھے۔

لیکن چین نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ اس طرح کی پابندیوں کا حامی نہیں ہے جس سے شمالی کمریا کا استحکام خطرے میں پڑ جائے اور معاشی طور پر برباد ہو جائے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کی نئی قرارداد میں کوئی ایسی تجویز شامل نہیں کی گئی ہے جس سے انسانی بحران کھڑا ہو اور عام شہریوں کی زندگی مشکل میں پڑ جائے جو پہلے ہی سے معاشی مشکلات سے دو چار ہیں۔

امریکہ نے پابندیوں کی قرارداد کا مسودہ شمالی کوریا کے ہمسائے اور خطے میں اس کے مرکزی حلیف چین کے ساتھ سات ہفتے کی بات چیت کے بعد تیار کیا تھا۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں 2006 سے عائد ہیں۔

امریکی پابندیوں کا اطلاق اُن افراد پر ہوگا جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تجارت یا اُس کے لیے مالی معاونت فراہم کریں، شمالی کوریا کے راکٹ پروگرام سے وابستہ ہوں، اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوں۔