شمالی کوریا پر جامع اور سخت پابندیوں کے نفاذ کی قرارداد

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ نے شمالی کوریا پر مزید جامع اور سخت پابندیوں کے نفاذ کی قرارداد کا مسودہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر دیا ہے۔
اس قرارداد کو چین کی حمایت بھی حاصل ہے جسے شمالی کوریا کا اہم حلیف سمجھا جاتا ہے۔
نئی پابندیوں کے نفاذ کی قرارداد شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں ہائیڈروجن بم اور طویل فاصلے تک جانے والے راکٹ کے تجربات کے بعد پیش کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مندوب سمانتھا پاور نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو اس کے اقدامات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اس قرارداد پر ہفتۂ رواں کے اختتام پر ووٹنگ متوقع ہے اور اس کی منظوری کی صورت میں دو دہائیوں میں شمالی کوریا پر سخت ترین پابندیاں لگ جائیں گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک شمالی کوریا سے آنے اور وہاں جانے والے تمام سازوسامان کی لازماً تلاشی لیں گے۔ ماضی میں ایسا صرف شک کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ قرارداد میں شمالی کوریا سے ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی کے علاوہ اسے کسی بھی ایسی چیز کی فراہمی پر پابندی لگانے کو کہا گیا ہے، جسے شمالی کوریا اپنی فوج کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہAP
نئی قرارداد میں شمالی کوریا کو ہر قسم کے ایوی ایشن ایندھن یا راکٹوں کے ایندھن کی فراہمی پر بھی پابندی تجویز کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ شمالی کوریا کے 17 شہریوں اور ملک کی قومی ایروسپیس ڈویلپمنٹ ایجنسی سمیت 12 اداروں پر بھی پابندیاں لگانے کی بات اس قرارداد میں کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مندوب سمانتھا پاور نے صحافیوں کو بتایا کہ منظوری کی صورت میں یہ نئے اقدامات ’سلامتی کونسل کی جانب سے دو دہائیوں میں لگائی جانے والی سخت ترین پابندیاں ہوں گے۔‘
امریکہ نے پابندیوں کی قرارداد کا مسودہ شمالی کوریا کے ہمسائے اور خطے میں اس کے مرکزی حلیف چین کے ساتھ سات ہفتے کی بات چیت کے بعد تیار کیا ہے۔
خیال رہے کہ شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں 2006 سے عائد ہیں۔
امریکہ کے صدر براک اوباما پہلے ہی امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں لگانے کی منظوری دے چکے ہیں۔
امریکی پابندیوں کا اطلاق اُن افراد پر ہوگا جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تجارت یا اُس کے لیے مالی معاونت فراہم کریں، شمالی کوریا کے راکٹ پروگرام سے وابستہ ہوں، اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوں۔







