’شمالی کوریائی ریستورانوں سے دور رہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جنوبی کوریا کی حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ بیرون ملک جا کر شمالی کوریا کے ریستوران میں کھانا نہ کھائیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہ ریستوران رقم کی کمی کا شکار شمالی کوریا کی مدد کر رہے ہوں۔
یہ تنبیہ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔
چوسن البو اخبار کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ چین یا دیگر ایشیائی ممالک میں بہت سے ریستوران شمالی کوریا کی حکومت کی ملکیت ہیں، اور جنوبی کوریا کے باشندے ان ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے سے پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کے لیے رقم مہیا کریں گے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مالی امداد کے خدشات کے علاوہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور بیلسٹک میزائل تجربوں کے بعد شہریوں کو بیرون ملک محتاط رہنا چاہیے۔
دا کوریا ٹائمز کے مطابق 12 ممالک میں 130 ریستوران ایسے ہیں جو کوریائی باشندوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لیے پیانگ یانگ کا نام استعمال کرتے ہیں۔
2010 میں چوسن البو میں شائع ہونے والے ایک فیچر کے مطابق کھانا کھانے والے شمالی کوریا کی ویٹرروں کو پرکشش سمجھتے ہیں جو میزبانی کرتی ہیں اور بعد میں گانے گانے، رقص کرنے کے علاوہ تصاویر بھی کھنچواتی ہیں۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے مطابق بیرون ملک سے سالانہ دس کروڑ ڈالر شمالی کوریا بھیجے جاتے ہیں۔ یہ رقم شمالی کوریا کے محکمے روم نمبر 39 کو بھیجی جاتی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا کام بیرون ملک سے نقد رقم اکٹھی کرنا ہے۔
حکومتی تنبیہ کے باوجود شمالی کوریا کے ریستورانوں کی کشش کچھ زیادہ ہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوریا ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ڈیوو کے ایک اہلکار نے کہا ’شمالی کوریا کے ریستوران اس ملک کو جاننے کا ایک موقع ہے جو ویسے نہیں ملتا۔‘







