’شمالی کوریا عنقریب سیٹلائٹ لانچ کرنے کو ہے‘

عالمی طاقتوں کا خیال ہے کہ در پردہ یہ بلاسٹک میزائل کا تجربہ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعالمی طاقتوں کا خیال ہے کہ در پردہ یہ بلاسٹک میزائل کا تجربہ ہے

مشرقی ایشیا کی ریاستوں کے مطابق امکان ہے کہ شمالی کوریا اپنا متنازع سٹیلائٹ اتوار کو لانچ کر دے گا۔

اطلاعات کے مطابق جاپان کی حکومت کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا سات سے چودہ فروری کے درمیان یہ سیٹلائٹ بردار راکٹ فضا میں بھیجے گا۔

اس سے پہلے پیانگ یانگ کہہ چکا ہے کہ یہ لانچ آٹھ سے 25 فروری کے درمیان متوقع ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے سیٹلائٹ لانچ کیے جانے کے منصوبے کی عالمی طاقتوں کی جانب سے بھی مذمت کی گئی ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ در پردہ یہ بلاسٹک میزائل کا تجربہ ہے۔

امریکہ کہہ چکا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔

جنوبی کوریا کی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کے منصوبے میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس کے لانچ کا مقام وہی ہے۔

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنا سیٹلائٹ منصوبے جاری رکھا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

جاپان کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے کسی بھی میزائل کو مار گرانے کا حکم دیا ہے جس کے جاپان کی سر زمین پر گرنے کا خطرہ ہو۔

جنوبی کوریا کے مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید یہ لانچ 16 فروری کو کی جائے جو شمالی کوریا کے سابق حکمران کم جونگ ال کی سالگرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اس منصوبے سے شمالی کوریا کو طویل فاصلے تک نشانہ بنانے والے جوہری ہتھیاروں کے لیے ضروری ٹیکنالوجی کے چند مزید تجربات کرنے کا موقع ملے تھا۔

شمالی کوریا پر پہلے ہی عالمی تنقید میں اس وقت اضافہ ہوا جب اس نے چھ جنوری کو چوتھے جوہری بم کا تجربہ کیا۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے برطانیہ میں سفیر نے تھنک ٹینک چیٹہم ہاؤس میں ستمبر میں کہا تھا کہ ان کا ملک بین الاقوامی تنقید سے خوفزدہ نہیں ہے۔