حملہ آوروں نے ہر مقدس چیز کی بے حرمتی کی ہے: سعودی علما

،تصویر کا ذریعہZillur Rehman
سعودی عرب کے سب سے اعلیٰ مذہبی ادارے نے پیر کے روز مسجد نبوی کے قریب ہونے والے خود کش بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور ’باغی‘ ہیں اور انھوں نے ہر مقدس چیز کے بےحرمتی کی ہے۔
علما کونسل نے پیر کے روز ہونے والے حملے کو’ غیر معمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملہ آوروں کا نہ ’ تو کوئی مذہب ہے اور نہ ہی ضمیر۔‘
علما کونسل کے سربراہ عبداللہ الشیخ کہا کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ ایسے فعل میں شریک نہیں ہو سکتا۔
دنیا بھر میں مسلمان اپنے مقدس ترین مقامات میں سے ایک مسجد نبوی کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کر رہے ہیں۔
کسی گروپ نے ابھی تک پیر کے روز ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن نام نہاد شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے سب سے اعلیٰ مذہبی ادارے نے پیر کے روز مسجد نبوی کے قریب ہونے والے خود کش بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور ’باغی‘ ہیں اور نہ تو کوئی مذہب ہے اور نہ ہی ضمیر۔
مصر کی الازہر یونیورسٹی کے گرینڈ مفتی نے بھی پیر کے روز مدینہ میں ہونے والے خود کش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
ایران کے وزیر ِخارجہ جواد ظریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے سب حدیں عبور کر لی ہیں اور جب تک سنّی اور شیعہ متحد نہیں ہو جاتے دونوں نشانہ بنتے رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد کسی مذہب، عقیدے اور انسانیت پر یقین نہیں رکھتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
منگل کے روز سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے پیر کو مسجد نبوی کے قریب خود کش بم حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے وقت ایک شخص مسجد کے قریب پارکنگ کے ذریعے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب سکیورٹی گارڈز نے اسے روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
سعودی وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ پیر کی شام قطیف کی مایاس مارکیٹ میں خود کش بم حملہ ہوا۔ بیان کےمطابق تین انسانی لاشیں جو جائے وقوعہ سے ملی ہیں ان کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی ادارے ان واقعات کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMOISaudiArabia
نام نہاد شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ ماضی سعودی عرب میں دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کرتا رہا ہے۔
دولت اسلامیہ نے رواں ماہ رمضان میں سنی اکثریت والے ممالک، ترکی، بنگلہ دیش اور عراق میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پیر کے روز جدہ میں امریکی قونصل خانے کے قریب ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حملہ آور کا نام عبداللہ گلزار خان ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ عبداللہ گلزار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ گذشتہ 12 برسوں سے اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب میں رہائش پذیر تھا اور وہ بطور پرائیوٹ ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔







