مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ

سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مسلمانوں کے مقدس مقام مسجدِ نبوی کے قریب ہونے والے ایک خودکش دھماکے کے بعد کے مناظر۔

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسلمانوں کے مقدس مقام مسجدِ نبوی کے قریب ایک خود کش بم دھماکہ ہوا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسلمانوں کے مقدس مقام مسجدِ نبوی کے قریب ایک خود کش بم دھماکہ ہوا۔
اس دھماکے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس دھماکے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہوئے۔
وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خود کش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اسے مسجد نبوی کے باہر روکا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خود کش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اسے مسجد نبوی کے باہر روکا گیا۔
مدینہ کے امیر فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمدینہ کے امیر فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔
سعودی عرب کے ٹی وی چینل کے مطابق یہ دھماکہ افطار کے وقت ہوا اور ایک ’خود کش حملہ آور‘ نے سکیورٹی اہلکاروں کے قریب اپنے آپ کو اڑا دیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے ٹی وی چینل کے مطابق یہ دھماکہ افطار کے وقت ہوا اور ایک ’خود کش حملہ آور‘ نے سکیورٹی اہلکاروں کے قریب اپنے آپ کو اڑا دیا۔
اس مسجد میں پیغمبرِ اسلام دفن ہیں اور اسے مکہ کے بعد مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس مسجد میں پیغمبرِ اسلام دفن ہیں اور اسے مکہ کے بعد مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔
جون میں سعودی حکام کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 26 دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجون میں سعودی حکام کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 26 دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
مدینہ کے امیر فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمدینہ کے امیر فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
ان حملوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنان حملوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔