’مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ، چار اہلکار ہلاک‘

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ پیر کی شام مسجدِ نبوی کے قریب ہوا اور خودکش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اسے مسجد نبوی کے باہر روکا گیا۔

٭ <link type="page"><caption> سعودی عرب میں شیعہ مسجد پر حملہ، تین ہلاک، 18زخمی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160129_saudi_arabia_mosque_attack_sh" platform="highweb"/></link>

تاہم العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق خودکش بمبار نے سکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ وہ ان کے ہمراہ افطار کرنا چاہتا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ کو اڑایا۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ قاری زیاد پٹیل نے جو دھماکے کے وقت مسجد نبوی میں موجود تھے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے سمجھے کہ افطار کا وقت ہونے پر گولہ چلنے کی آواز ہے۔

’لیکن پھر زمین لرز اٹھی اور اتنی شدت سے لرزی کہ ایسا محسوس ہوا کہ عمارت گر رہی ہو۔‘

سعودی حکام کے مطابق دھماکہ خودکش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اسے مسجد نبوی کے باہر روکا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسعودی حکام کے مطابق دھماکہ خودکش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اسے مسجد نبوی کے باہر روکا گیا

دھماکے بعد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جائے وقوعہ پر ایک جلتی ہوئی کار سے دھواں نکلتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

ان حملوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی سعودی حکام کی جانب سے تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مسجدِ نبوی میں پیغمبرِ اسلام دفن ہیں اور اسے مکہ میں مسجد الحرام کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔

مدینہ میں دھماکے سے قبل نمازِ مغرب کے وقت ہی سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں بھی ایک دھماکہ ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

قطیف سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ آبادی کا گڑھ ہے اور یہ دھماکہ بھی ایک مسجد کے قریب ہوا۔

ان دھماکوں سے قبل اتوار اور پیر کی درمیانی شب جدہ میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جہاں خودکش حملہ آور نے امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

اس واقعے میں مشتبہ حملہ آور ہلاک اور وہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، جنھوں نے حملہ آور پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔

دھماکے بعد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جائے وقوعہ سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہZillur Rehman

،تصویر کا کیپشندھماکے بعد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جائے وقوعہ سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے

یاد رہے کہ جون میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں 26 دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

عالمی ردعمل

مسجدِ نبوی کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس سلسلے میں منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور سعودی حکام اور عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، تحفظ اور سکیورٹی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشت گردوں نے سب حدیں عبور کر لی ہیں اور جب تک سنّی اور شیعہ متحد نہیں ہو جاتے دونوں نشانہ بنتے رہیں گے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد کسی مذہب، عقیدے اور انسانیت پر یقین نہیں رکھتے۔

57 مسلم ممالک کی اسلامی تعاون کی تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے حملے سعودی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہیں کیونکہ سعودی عرب کی سکیورٹی خطے اور عالمِ اسلام کے تحفظ اور استحکام کی بنیاد ہے۔

مسجدِ نبوی کو مسجد الحرام کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمسجدِ نبوی کو مسجد الحرام کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے