ڈھاکہ کیفے پر شدت پسندوں کا حملہ: 20 یرغمال افراد ہلاک

کیفے متوسط طبقے، سفارتی برادری اور غیر ملکیوں میں خاصا مقبول ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکیفے متوسط طبقے، سفارتی برادری اور غیر ملکیوں میں خاصا مقبول ہے

بنگلہ دیش کی فوج کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ کے کیفے پر مبینہ طور پر خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے حملے میں ہلاک ہونے والے 20 یرغمالی افراد میں سے بیشترغیرملکی تھے۔

شدت پسندوں نے جمعے کی شب دارالحکومت ڈھاکہ میں ہولے آرٹیسن بیکری کیفے پر حملہ کرکے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حملے کے 12 گھنٹے بعد فوجی دستے کیفے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق کمانڈوز کی کارروائی میں چھ شدت پسندوں کو ہلاک جب کہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

شدت پسندوں نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک کیفے پر حملہ کرکے کم از کم 20 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں کئی غیر ملکی باشندے بھی تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک کیفے پر حملہ کرکے کم از کم 20 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں کئی غیر ملکی باشندے بھی تھے

بنگلہ دیش کی فوج کے بریگیڈئر جنرل نائم اشرف چوہدری کے مطابق 13 یرغمالیوں کو رہا کروا لیا گیا ہے۔ رہا ہونے والوں میں ایک جاپانی اور سری لنکا کے دو شہری شامل ہیں۔

ہولی آرٹیسین بیکری کیفے میں زیادہ تر افراد اطالوی تھے جبکہ کچھ جاپانی تھے۔

اٹلی کی نیوز ایجنسی انسا کے مطابق اس حملے میں اٹلی کے ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد دس کے قریب ہو سکتی ہے۔

حکومت بنگلہ دیش سے ہر قسم کی دہشت گردی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے پر عزم ہے
،تصویر کا کیپشنحکومت بنگلہ دیش سے ہر قسم کی دہشت گردی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے پر عزم ہے

ادھر جاپانی کابینہ کے نائب سیکریٹری کوئچی ہیگودا کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت کیفے میں سات جاپانی موجود تھے تاہم ابھی معلوم نہیں کہ ان میں سے کتنے زخمی یا ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارتی وزیرِ خارجہ نے اس حملے میں ایک نوجوان بھارتی خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

رہا ہونے والے 13 یرغمالیوں میں دو سری لنکن بھی شامل ہیں۔

ابتدا میں بنگلہ دیشی فوج نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے تمام 20 یرغمالی غیر ملکی تھے تاہم بعد میں یہ خبریں موصول ہوئیں کہ ہلاک شدگان میں بنگالی بھی شامل ہیں۔

خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنخود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

پویس کے ایک ترجمان نکے مطابق حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک جب کہ 30 کے قریب زخمی ہوئے۔

دولتِ اسلامیہ سے منسلک نیوز ایجنسی عماق کے مطابق تنظیم کے جنگجوؤں نے ایک ریستوران پر حملہ کیا جہاں اکثر اوقات غیر ملکی آتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے ٹی وی پر ایک بیان میں کہا ’یہ ایک وحشیانہ عمل تھا۔ یہ کیسے مسلمان ہیں؟ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ حکومت بنگلہ دیش سے ہر قسم کی دہشت گردی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔‘

دوسری جانب جاپان کی کابینہ کے نائب چیف سیکریٹری کا کہنا ہے کہ بنگہ دیشی کمانڈوز کی کارروائی میں ایک جاپانی شہری زخمی ہوا جب کہ کیفے میں سات جاپانی شہری موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کا اپنے شہریوں سے ابھی تک رابطہ نہیں ہوا۔

ادھر اٹلی کے میڈیا نے ڈھاکہ میں موجود اٹلی کے سفیر ماریو پالما کے حوالے سے بتایا ہے کہ کیفے پر حملے کے وقت اٹلی کے سات شہری موجود تھے۔

کیفے کے پاس رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی آمد کے بعد اس عمارت سے گولیوں کی آوازیں سنی

،تصویر کا ذریعہFocus Bangla

،تصویر کا کیپشنکیفے کے پاس رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی آمد کے بعد اس عمارت سے گولیوں کی آوازیں سنی

بنگہ دیش کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج اور نیوی کے کمانڈوز نے کیفے میں کارروائی کی اور انھیں پولیس اور بارڈر گارڈز کی مدد حاصل تھی۔

ڈھاکہ کیفے کے سپروائزر ثمن رضا کا کہنا ہے کہ جب حملہ ہوا تو وہ وہاں موجود تھے تاہم وہ بھاگ کر کیفے کی چھت پر چلے گئے۔

انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ جب شدت پسدووں نے دھماکہ خیز مواد استعمال کیا تو پوری عمارت لرز اٹھی اور وہ چھت سے کود کر بھاگ گئے۔

جائے وقوع سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ نامہ نگار ولی الرحمن نے بتایا کہ پولیس اور بنگلہ دیش کے نیم فوجی دستوں کے ساتھ فوج اور بحریہ کے کمانڈوز نے اس آپریشن کی سربراہی کی۔

بنگلہ دیش کے اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق کئی بندوق بردار ہولی آرٹیشن بیکری میں داخل ہوئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کر دی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کے اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق کئی بندوق بردار ہولی آرٹیشن بیکری میں داخل ہوئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کر دی

ریپیڈ ایکشن بٹالین کے ایک کمانڈر محمد محسود نے خبر رساں ادارے اے کو بتایا ’جب مسلح افراد کو مذاکرات کی آفر کی گئی تو انھوں نے کوئی کوئی جواب نہیں دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گلشن ڈسٹرکٹ کے علاقے میں واقع کیفے میں آٹھ سے نو حملہ آوروں نے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا جن میں غیر ملکی بھی شامل تھے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے خیال میں اٹلی کے شہری بھی یرغمال بنائے گئے افراد میں شامل ہیں۔

پویس کے ایک ترجمان کے مطابق حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک جب کہ 30 کے قریب زخمی ہوئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپویس کے ایک ترجمان کے مطابق حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک جب کہ 30 کے قریب زخمی ہوئے

اطلاعات کے مطابق جس کیفے میں فائرنگ کی گئی ہے وہ متوسط طبقے، سفارتی برادری اور غیر ملکیوں میں خاصہ مقبول ہے۔

بنگلہ دیشی روزنامہ ڈیلی سٹار کے مطابق حملہ آوروں نے ہر اس شخص کو نشانہ بنایا جو قرآن نہیں پڑھ سکتا تھا۔ حملہ آوروں نے رات بھر صرف بنگالی افراد کو کھانا دیا۔