بنگلہ دیش میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی

،تصویر کا ذریعہAFP
بنگلہ دیش میں جمعہ کی شب سے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران پولیس نے نو سو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے یہ مہم اقلیتیوں اور سیکیولر خیالات رکھنے والے شہریوں کے خلاف قاتلانہ حملوں کے بعد شروع کی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے وہ پرتشدد کارروائیوں میں مطلوب ہیں اور ان میں سے بیشتر گذشتہ تین برسوں میں ہونے والے ’ٹارگٹ کلنگ‘ یا ہدف بنانے کر ہلاک کرنے کی 40 وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
جمعرات کو مندر میں رضاکار کے طور پر کام کرنے والے نتیارنجن پانڈے کو پبنا ضلعے میں قتل کر دیا گیا۔ اقلتیوں کے خلاف ہونے والی وارداتوں کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔
گذشتہ ہفتے ایک ہندو پجاری کی لاش ایک دھان کے کھیت سے ملی تھی۔ اس کے علاوہ ایک مسیحی دکاندار کو بھی گرجا گھر کے قریب ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل انسداد دہشت گردی فورس کے ایک افسر کی بیوی کو دن دھاڑے چھریوں کے وار کرنے کے بعد گولیاں مار کر بڑی بےدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس سکیورٹی افسر کی بیوی کے قتل کے بعد حرکت میں آئی ہے اور یہ کارروائی شروع کی گئی ہے۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس شاہد الحق نے کہا کہ جو لوگ پولیس افسر کی بیوی کے قتل میں ملوث ہیں انھیں ہر قیمت پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
قبل ازیں بدھ کو ڈھاکہ میں پاکستان سفارت خانے کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے سفارت خانے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج بنگلہ دیش کی ورکر پارٹی نے کروایا تھا جو حکمران عوامی لیگ کی اتحادی ہے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر داخلہنے ملک میں حالیہ تشدد کے واقعات میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی بات بھی کی تھی جسے اسرائیل کی حکومت کی طرف سے رد کر دیا گیا تھا۔







