بنگلہ دیش میں ہندو پنڈت قتل

 پنڈت آنندہ گنگلےکے لواحقین

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن پنڈت آنندہ گنگلےکے لواحقین

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم نے بنگلہ دیش میں ایک ہندو پنڈت کو قتل کر دیا ہے۔

ملک کے مغربی ضلعے جنیدہ میں 70 سالہ آنندہ گوپال گنگلے کی لاش مندر کے قریب سے ملی ہے اور ان کی گردن پر بہت گہرا وار کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے تین افراد کو کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

ادھر دارالحکومت ڈھاکہ میں کالعدم جماعت المجاہدین کے دو مبینہ اراکین کو پولیس کی جانب سے ایک چھاپے میں ہلاک کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک نامعلوم مسلح شخص نے ان پر حملہ کیا۔

گذشتہ دو دنوں میں بنگلہ دیش میں اس قسم کے واقعے کے نتیجے میں یہ تیسری ہلاکت ہوئی ہے۔ اس سے قبل شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں متحرک سینیئر پولیس اہلکار کی اہلیہ اور ایک عیسائی دکاندر کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف انسانی حقوق کے ادارے آواز اٹھا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف انسانی حقوق کے ادارے آواز اٹھا رہے ہیں

پولیس چیف گوپی ناتھ کانجیلال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پنڈت آنندہ گنگلے اپنے اہلِ خانہ کو صبح یہ بتایا کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ عبادت کے لیے جا رہے ہیں۔ بعد میں علاقے کے کسانوں نے ان کی لاش کھیت کے قریب پڑی دیکھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جنوری سے لے کر اب تک ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ہی بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ترقی پسند بلاگرز اور اقلیتی برادری کے افراد کی حالیہ ہلاکتوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔