بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو قتل

یہ دو دن میں بنگلہ دیش میں کسی ہندو کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیہ دو دن میں بنگلہ دیش میں کسی ہندو کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے

بنگلہ دیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مغربی ضلعے پبنا میں ہندوؤں کے مندر کے ایک ملازم کو چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے نتیارنجن پانڈے پر ملک کے شمال مغربی ضلعے پبنا میں جمعے کی صبح متعدد افراد نے حملہ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں نتیارنجن موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

وہ ہندو عبادت گاہ میں گذشتہ 40 برس سے ملازم تھے۔

ضلع پبنا کی پولیس کے سربراہ عالمگیر کبیر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس حملے کا کوئی عینی شاہد نہیں کیونکہ یہ علی الصبح ہوا۔‘

جس وقت نتیارنجن پانڈے پر حملہ کیا گیا وہ صبح کی سیر کے لیے نکلے تھے۔

یہ دو دن میں بنگلہ دیش میں کسی ہندو کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو ملک کے مغربی ضلعے جنیدہ میں 70 سالہ پنڈت آنندہ گوپال گنگلے کی لاش ایک مندر کے قریب سے ملی تھی۔

تاحال کسی تنظیم نے ہندو کارکن کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے ایسے حملوں کی ذمہ داری اسلامی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

بنگلہ دیش میں رواں برس کے دوران اس قسم کے مختلف حملوں میں 40 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سکیولر بلاگر، دانشور اور ہم جنس پرست کارکن بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ترقی پسند بلاگرز اور اقلیتی برادری کے افراد کی حالیہ ہلاکتوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔