بنگلہ دیش: پولیس افسر کی اہلیہ اور عیسائی دکاندار کا قتل

بنگلہ دیش میں مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں نے ایک سینیئر پولیس افسر کی اہلیہ کو ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس حکام مطابق ملک کے جنوب مشرق میں واقع شہر چٹاگانگ میں تین مشتبہ عسکریت پسندوں نے پولیس افسر بابل اختر کی اہلیہ محمودہ خانم متو کے سر پر چھری سے وار کرنے بعد ان کو گولی مار کر قتل کیا۔
حکام کے بقول واقعے کے وقت پولیس افسر کی اہلیہ اپنے بیٹے کو سکول بس پر بٹھانے جا رہی تھیں۔
جس پولیس افسر کی اہلیہ کو قتل کیا گیا ہے ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حالیہ عرصے میں عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں کافی متحرک رہے ہیں۔
اس واقعے کی ذمہ داری ابھی کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
اگر چہ قتل کا شبہ اسلامی عسکریت پسندوں پر کیا جا رہا ہے لیکن خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق چٹاگانگ کے پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے کے پیچھے کون ہے تاہم شک اسلامی عسکریت پسندوں پر ہے۔‘
ملک کے شمال مغرب میں پیش آنے والے ایک مختلف واقعے میں ایک عیسائی دکاندار کو نامعلوم افراد نے کلہاڑیوں کے وار کرکے ہلاک کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سنیل گومیز نامی اس شخص کے خاندان کے بقول سنیل کو اس کی دکان کے قریب قتل کیا گیا جو ایک عیسائی آبادی میں واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے سنیل گومیز کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بنگلہ دیش میں اسلامی عسکریت پسندوں کے حملوں کا شکار ہونے والوں کی فہرست بڑھتی جا رہی ہے۔
ملک میں شیعہ، صوفی، احمدی اور مسیحی اور ہندو اقلیتوں پر بھی حملے ہوئے ہیں جن میں سے بہت کو خنجروں سے ہلاک کیا گیا ہے۔
یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ دار کون ہیں کیونکہ بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں۔
بنگلہ دیش میں ان ہلاکتوں کے حوالے سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے دعووں کو متنازع سمجھا جاتا ہے اور حکومت حزب اختلاف یا پھر مقامی اسلام پسند تنظیموں کو ہی ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔







