سینیئر بنگلہ دیشی مدیر بغاوت کے الزام میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہFocus Bangla
بنگلہ دیش کے ایک مشہور رسالے کے مدیر شفیق رحمان کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیاگیا ہے۔
ڈھاکہ کی پولیس اور شفیق رحمان کے خاندان والوں نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر شفیق رحمان کو ان شواہد کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے کے قتل کی سازش میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔
یاد رہے کہ مسٹر شفیق رحمان حزبِ اختلاف کے کسی حامی رسالے کے وہ تیسرے مدیر ہیں جنھیں حالیہ ماہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔
حالیہ عرصے میں جن مدیروں کو حراست میں لیاگیا ان کا تعلق حکومت مخالف بنگالی اور انگیزی اخبارات سے ہے۔

بنگلہ دیش کے معروف انگریزی روزنامے ’ ڈیلی سٹار‘ کے مدیر محفوظ انعام پر اس الزام کے تحت غداری کا الزام لگایا گیا تھا کہ سنہ 2007 میں جب ملک میں فوجی حکومت تھی اس وقت انھوں نے شیخ حسینہ واجد پر بدعنوانی کا الزام لگایا تھا۔
پریس کی آزادی کو ’خطرہ‘
وزیر اعظم حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد کا دعویٰ ہے کہ محفوظ انعام اور ان کے اخبار نے جو مضامین شائع کیے تھے ان کا مقصد ملک میں ’فوجی آمریت کی مدد کر کے میری والدہ کو سیاست سے نکالنا باہر کرنا تھا۔‘
سنیچر کی صبح جب بغیر وردی کے پولیس اہلکاروں نے 81 سالہ مسٹر رحمان کو حراست میں لیا تو ان پر بھی اسی قسم کے الزات لگائے گئے جو مسٹر محفوظ انعام پر لگائے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ایک وقت میں شفیق رحمان وزیر اعظم حسینہ واجد کی سب سے بڑی سیاسی مخالف اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کی تقاریر لکھا کرتے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پولیس کے ترجمان معروف حسین سردار کا کہنا تھا کہ ’مسٹر شفیق رحمان کو غداری کے اس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جو پولیس نے ان کے خلاف سنہ 2005 میں ڈھاکہ میں درج کیا تھا۔‘
شفیق رحمان ایک طویل عرصے تک مشہور بنگالی روزنامے جیے جیے دن کے مدیر رہے ہیں جبکہ آج کل وہ ایک مقبول بنگالی رسالے کے مدیر ہیں۔
حالیہ مہینوں میں مسٹر رحمان نے بی این پی کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی کا ایک اجلاس بھی بلایا تھا اور وہ حزب اختلاف کے حامی ایک تھِنک ٹینک ’جی نائن‘ کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔
بی بی سی کے جنوب اشیا کے نامہ نگار جسٹن رولیٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ عرصے سے ’ڈیلی سٹار‘ اور اس کے ساتھ منسلک بنگہ دیش میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والی بنگالی اخبار ’پروتھم الو‘ پر دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے تا کہ ان کی مالی حیثیت کو کمزور کیا جائے اور ان کی اشاعت پر اثر انداز ہوا جائے۔







