سرکاری مذہب اسلام نہیں ہونا چاہیے، درخواست خارج

ہائی کورٹ کے تین رکنی پینل نے فیصلہ سنانے ہوئے کہا کہ جس 15 رکنی گروپ نے 1988 میں یہ درخواست دائر کی تھی اس کے پاس ایسا کرنے کا قانونی استحقاق نہیں تھا

،تصویر کا ذریعہGetty images

،تصویر کا کیپشنہائی کورٹ کے تین رکنی پینل نے فیصلہ سنانے ہوئے کہا کہ جس 15 رکنی گروپ نے 1988 میں یہ درخواست دائر کی تھی اس کے پاس ایسا کرنے کا قانونی استحقاق نہیں تھا

بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے پیر کے روز ایک 28 سال پرانی درخواست خارج کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کا سرکاری مذہب اسلام نہیں ہونا چاہیے۔

یہ فیصلہ تین رکنی ججوں کے پینل نے کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جس 15 رکنی گروپ نے 1988 میں یہ درخواست دائر کی تھی اس کے پاس ایسا کرنے کا قانونی استحقاق نہیں تھا کیوں کہ اس کا اندراج نہیں کروایا گیا تھا۔

حکومت کے وکلا کا کہنا تھا کہ عدالت کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اسلام بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب رہے گا، اور اس سے آئین کے مطابق اقلیتوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

بنگلہ دیش میں اسلام کو 1988 میں اس وقت کے فوجی آمر حسین محمد ارشاد نے سرکاری مذہب قرار دیا تھا۔ اس کا مقصد ایک ایسے وقت میں سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ان کے خلاف تحریک چلا رہی تھیں۔

ملک کی حالیہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے 2011 میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے سیکیولرزم کو بطور سیاسی معیار متعارف کروایا تھا، تاہم اسلام بدستور سرکاری مذہب رہا۔

ایک مذہبی تنظیم ’حفاظتِ اسلام‘ نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ اس کے رہنما فضل الکریم نے اس موقعے پر کہا: ’ہم اس درخواست کو مسترد کرنے پر ملک بھر کی طرف سے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان ایک عرصے سے اچھے تعلقات چلے آ رہے ہیں۔‘