بنگلہ دیش: پروفیسر کا قتل، طالب علم حراست میں

اے ایف ایم رضاء الکریم صدیق ملک کے مغرب میں واقع راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناے ایف ایم رضاء الکریم صدیق ملک کے مغرب میں واقع راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے

بنگلہ دیش کی پولیس کا کہناہے کہ اُس نے یونیورسٹی پروفیسر رضا الکریم صدیقی کے قتل کے معاملے میں پوچھ کچھ کے لیے ایک طالبِ علم کو حراست میں لیا ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کے طلبا ونگ سے منسلک ہے۔

٭ <link type="page"><caption> بنگلہ دیش میں سیکولر بلاگر کے قتل پر طلبہ کا احتجاج</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/04/160407_bangladesh_hacked_death_.shtml" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> بنگلہ دیش: آزاد خیال بلاگر کے قاتلوں کو سزائے موت</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151230_blogger_murder_verdict_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے ایک ریڈیو براڈ کاسٹ میں دعوی کیا تھا کہ اُس نے یونیورسٹی پروفیسر کا قتل کیا تھا جو انگریزی پڑھاتے تھے اور راجشاہی میں ایک ادبی جریدے کے مدیر بھی تھے۔

58 سالہ اے ایف ایم رضا الکریم صدیق ملک کے مغرب میں واقع راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔

جب وہ یونیورسٹی سے اپنے گھر جا رہے تھے تو چند نامعلوم افراد نے ان پر چھرے اور چاقو سے حملہ کر دیا۔

راج شاہی یونیورسٹی میں دوسرے روز بھی طلبا اور اساتذہ نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

اس سے قبل گذشتہ سال چار اہم بلاگروں کو چاقو اور چھرے کے حملوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

نائب پولیس کمشنر ناہید الاسلام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پروفیسر صدیق مختلف قسم کے ثقافتی پروگرامز میں شریک رہتے تھے اور انھوں نے باگ مارا میں ایک سکول قائم کیا تھا۔ یہ علاقہ کالعدم تنظیم جمیعت المجاہدین (جے بی ایم) کا کبھی گڑھ کہا جاتا تھا۔

بلاگروں کے قتل پر مظاہرے کیے گئے ہیں اور سزائیں بھی دی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنبلاگروں کے قتل پر مظاہرے کیے گئے ہیں اور سزائیں بھی دی گئی ہیں

گذشتہ سال جے بی ایم کے چند اراکین کو اطالوی کیتھولک پادری پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے اوائل میں قانون کے ایک بنگلہ دیشی طالب علم کو دارالحکومت ڈھاکہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا تھا۔

جن چار بلاگروں کو گذشتہ سال قتل کیا گیا ان کے نام ان 84 افراد کی فہرست میں شامل تھے جو خدا کے منکر تھے اور فہرست کو جے بی ایم نے سنہ 2013 میں جاری کیا تھا۔

اس کے علاوہ ملک میں شیعہ، صوفی، احمدی مسلمانوں اور مسیحی اور ہندو اقیلتوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو غیر ملکی بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔