بنگلہ دیش میں بلاگرز کا قتل، برطانوی شہری سمیت تین گرفتار

،تصویر کا ذریعہFocus Bangla
بنگلہ دیش کی پولیس نے بتایا ہے کہ انھوں نے دو سیکیولر بلاگرز اویجيت رائے اور اننتو بیجوئے داس کے قتل کے سلسلے میں ایک برطانوی شہری سمیت مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ان دونوں کو رواں سال الگ الگ واقعات میں چاقو اور چھروں کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری توحید الرحمان نے ان دونوں بلاگروں کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر توحید کا تعلق بنگلہ دیش میں کالعدم شدت پسند تنظیم ’انصار اللہ بنگلہ ٹیم‘ سے بتایا جا رہا ہے۔
انھیں اور دیگر دو افراد کو ڈھاکہ میں دھان منڈی اور نیل کھیت کے علاقوں سے پیر کی شب حراست میں لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے بنگلہ دیش میں چار سیکیولر بلاگروں کے قتل کے سلسلے میں مزید شواہد مل جائیں گے۔
بنگلہ دیش سرکاری طور پر سیکیولر ملک ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام نے ان حملوں کو روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کیا۔

گذشتہ ہفتے پولیس نے ایک اور بلاگر نیلوئے نیل کے قتل کے الزام میں ایک تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیلوئے نیل ڈھاکہ میں قتل کیے جانے والے تیسرے بلاگر تھے۔
ان سے پہلے بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت رائے کو رواں سال فروری میں ڈھاکہ میں قتل کیا گیا تھا جس کے اگلے ہی ماہ 30 مارچ کو ایک اور بلاگر وشیق الرحمٰن کو بھی ڈھاکہ میں ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔
رواں برس ہلاک ہونے والے چوتھے بلاگر 31 سالہ آننت بیجوئے داس تھے جو مئی میں سلہٹ میں نقاب پوش چاقو بردار حملہ آوروں کا نشانہ بنے۔
بلاگروں پر ہونے والے حملوں کو بنگلہ دیش میں ’آزادیِ اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی آزادیِ اظہار اور سیکیولرزم کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ ملک میں سیکیولر بلاگروں کی ہلاکتوں میں مبینہ طور پر ملوث اسلامی شدت پسند تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔







