بنگلہ دیش: نوجوان لڑکے کے قتل کے الزام میں 13 افراد کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہAFP
بنگلہ دیش میں پولیس نے ایک نوجوان لڑکے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے اور مذاق اڑاتے ہوئے اپنی وڈیو بنانے والے 13 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ مقدمہ اتوار کو بنگلہ دیش کے شمالی شہر سلہٹ میں درج کیا گیا ہے۔
گذشتہ ماہ سمیع ال عالم راجون کو سائیکل رکشہ چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تیرہ افراد نے تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔
حملہ آوروں میں سے ایک نے مبینہ طور پر اس حملے کی وڈیو اپنے موبائل فون پر بنائی تھی۔ اس وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس لڑکے کو کھمبے کے ساتھ باندھ کر انھیں مسلسل ایک راڈ کے ساتھ مارا جا رہا ہے۔
انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی اس وڈیو میں ہلاک ہونے والے لڑکے کو روتے ، اور پانی مانگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سمیع ال عالم نامی یہ لڑکا چیخ کر کہہ رہا تھا کہ’ پلیز مجھے اس طرح نہیں ماریں میں مر جاؤں گا۔‘

لاش کے معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ 13 سالہ لڑکے کو مختلف قسم کے 64 زخم آئے تھے۔
بنگلہ دیش میں عام طور پر چوروں پر ہجوم کے حملے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن خاص طور پر اس ظالمانہ حملے کی وجہ سے پولیس کو اس واقع کی تحقیقات کرنے کے لیے ایک خصوصی سکواڈ تشکیل دینا پڑا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے خفیہ ادارے کے ایک اہلکار سرونجیت تالکدیر نے بتایا ہے کہ آٹھ جولائی کو ہونے والے اس واقع کے بعد سے اب تک دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنھوں نے اس جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باقی تین افراد پر بھی جو سلہٹ سے بھاگ گئے ہیں قتل کے بعد فرار ہونے کا مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے۔
دی ڈیلی سٹار نامی اخبار کے مطابق ان افراد میں قمرال اسلام بھی شامل ہیں جن کی اخبار نے اس کیس کے اہم مشتبہ شخص کے طور پر نشاندہی کی ہے۔

اس قتل کے بعد سلہٹ اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کئے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر سمیع ال عالم کے حق میں ایک پیج بھی بنایا گیا ہے۔
قتل ہونے والے لڑکے کے والد کا کہنا ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ’جب تک مجرمان کو سزا نہیں مل جاتی۔‘
اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ انھوں نے سائیکل چوری کی تھی۔ جبکہ ان کے گھر والوں کا بھی کہنا ہے کہ سیع ال عالم راجون کو چوری کے جھوٹے الزام میں مارا گیا ہے۔







