بنگلہ دیش میں رواں سال چوتھے بلاگر کا قتل

نیلوئے نیل ڈھاکہ میں ہلاک کیے جانے والے تیسرے بلاگر ہیں

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشننیلوئے نیل ڈھاکہ میں ہلاک کیے جانے والے تیسرے بلاگر ہیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ چھروں سے مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک نیلوئے نیل نامی ایک بلاگر کو قتل کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ شہر کے گوران نامی علاقے میں پیش آیا اور نیلوئے کو ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔

بنگلہ دیش میں بلاگرز اینڈ ایکٹیوسٹ نیٹ ورک کے سربراہ عمران ایچ سرکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نیلوئے نیل شدت پسندی کے خلاف اٹھنے والی ایک اہم آواز تھے۔

ان کے مطابق نیلوئے نے اپنی تحریروں میں ’بنیاد پرستی، شدت پسندی، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی۔‘

یہ رواں سال بنگلہ دیش میں کسی بلاگر کو قتل کیے جانے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے بی بی سی کی عالمی سروس کے مدیر چارلس ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ نیلوئے کا تعلق ایک ہندو خاندان سے تھا، تاہم قتل کیے جانے والے دیگر بلاگروں کی طرح نیلوئے نہ صرف سیکیولر بلکہ لادین بھی تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چھ حملہ آور نیلوئے کے مکان میں یہ کہہ کر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے کہ انھیں کرائے پر مکان کی تلاش ہے۔

ڈھاکہ کے نائب پولیس کمشنر منتشرالاسلام کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے دو انھیں دوسرے کمرے میں لے گئے اور وہاں انھیں ذبح کر دیا۔‘

بلاگروں پر ہونے والے حملوں کو بنگلہ دیش میں ’آزادی اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبلاگروں پر ہونے والے حملوں کو بنگلہ دیش میں ’آزادی اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے

ان کے مطابق ’ان کی اہلیہ فلیٹ میں تھیں لیکن انھیں دوسرے کمرے میں پکڑ کر رکھا گیا تھا۔‘

نیلوئے نیل ڈھاکہ میں ہلاک کیے جانے والے تیسرے بلاگر ہیں۔

اس سے قبل بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت رائے کو بھی رواں سال فروری میں ڈھاکہ میں قتل کیا گیا تھا۔ اگلے ہی ماہ 30 مارچ کو ایک اور بلاگر وشیق الرحمٰن کو بھی ڈھاکہ میں ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔

رواں برس ہلاک ہونے والے چوتھے بنگلہ دیش بلاگر 31 سالہ آننت بیجوئے داس تھے جو مئی میں سلہٹ میں نقاب پوش چاقو بردار حملہ آوروں کا نشانہ بنے تھے۔

بلاگروں پر ہونے والے حملوں کو بنگلہ دیش میں ’آزادی اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی آزادیِ اظہار اور سیکیولرزم کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ ملک میں سیکیولر بلاگروں کی ہلاکتوں میں مبینہ طور پر ملوث اسلامی شدت پسند تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔