بنگلہ دیش میں رواں سال تیسرے بلاگر کا قتل

،تصویر کا ذریعہAP
بنگلہ دیش کے شمال مشرقی شہر سلہٹ میں نامعلوم حملہ آوروں نے چاقو کے وار سے آننت بیجوئے نامی بلاگر کو قتل کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال بنگلہ دیش میں کسی بلاگر کو قتل کیے جانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔
آننت بیجوئے داس مکتو مونا نامی ویب سائٹ کے لیے لکھتے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار سنجے ماجومدار کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو آننت بیجوئے داس کو دن دہاڑے نقاب پوش حملہ آوروں جن کے پاس چاقو اور خنجر تھے نے قتل کر دیا۔
بتایا گیا ہے کہ انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کے بلاگر کو قتل کرنے کے پیچھے کون ملوث ہے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ آننت بیجوئے داس کو اسلامی انتہاپسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کے مقامی اخبار دا ڈیلی سٹار کے مطابق مقامی پولیس کمشنر قمر الحسن نے بتایا ہے کہ آننت بیجوئے کو منگل کی صبح نو بجے کے قریب سلہٹ کے سوبید بازار میں نشانہ بنایا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ مقتول بلاگر کی عمر 31 برس تھی اور وہ مقامی روشن خیال جریدے ’جکتی‘ کے لیے بھی لکھا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اسی ویب سائٹ کے منتظم بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت رائے کو بھی رواں سال فروری میں ڈھاکہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ 30 مارچ کو بلاگر وشیق الرحمٰن کو بھی ڈھاکہ میں ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔
بنگلہ دیش کی پولیس نے اس سے قبل دو بلاگرز کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ تو کیا تھا تاہم ابھی تک کسی بھی کیس میں پیش رفت کی اطلاع موصول نہیں ہو سکی ہے۔
بلاگرز پر ہونے والے حملوں کو بنگلہ دیش میں ’آزادی اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی آزادیِ اظہار اور سیکولرزم کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔







