بلاگرز کا قتل: اسلامی شدت پسند تنظیم کالعدم قرار دے دی گئی

بلاگرز کی ہلاکتوں کے بعد ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہبی کا غلط استعمال کرنے والوں پر تنقید کرنے والوں کی حفاظت نہیں کر رہی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبلاگرز کی ہلاکتوں کے بعد ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہبی کا غلط استعمال کرنے والوں پر تنقید کرنے والوں کی حفاظت نہیں کر رہی

بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں تین سیکیولر بلاگرز کی ہلاکتوں میں مبینہ طور پر ملوث اسلامی شدت پسند تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

انصار اللہ بنگلہ ٹیم چھٹی اسلامی شدت پسند تنظیم ہے جس کو بنگلہ دیش کی حکومت نے کالعدم قرار دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق اے بی ٹی پر پابندی پولیس کی جانب سے سفارش پر لگائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تینوں بلاگرز کو اس سال تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

ان ہلاکتوں کے بعد ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہبی کا غلط استعمال کرنے والوں پر تنقید کرنے والوں کی حفاظت نہیں کر رہی۔

پولیس نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ بلاگرز کی کی ہلاکت کی ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان حملوں کے بیچھے انصار اللہ بنگلہ ٹیم کا ہاتھ ہے۔

پولیس نے کہا کہ تینوں بلاگرز کو ایک ہی طریقے سے قتل کیا گیا ہے اور تینوں کو مصروف سڑک پر قتل کیا گیا۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں سیکیولر بلاگرز کو دھمکیوں کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

چند سال قبل سخت گیر موقف رکھنے والی الامی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایسے بلاگرز کے خلاف توہین مذہب کا قانون لایا جائے جو اپنی تحریروں میں اسلام مخالف نظر آتے ہیں۔

اس سال پہلا بلاگر فروری میں قتل کیا گیا۔ بنگلہ دیشی نژاد امریکی اوجیت روئے کو ڈھاکہ میں قتل کیا گیا۔

مارچ میں وشیق الرحمان کو بھی ڈھاکہ ہی میں قتل کیا گیا۔