ڈھاکہ میں مذہبی انتہا پسندی مخالف بلاگر کا قتل

،تصویر کا ذریعہfocus bangla
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف لکھنے والے امریکی بلاگر کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی نژاد امریکی اویجیت رائے کو نامعلوم افراد نے چاقو سے وار کر کے قتل کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ روئے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کتابی میلے سے واپس آ رہے تھے۔
اس حملے میں ان کی اہلیہ رفیدہ احمد بھی شدید زخمی ہوئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں تاہم رائے کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ روئے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور ان کی ماضی میں دھمکیاں مل چکی تھیں۔
ڈھاکہ پولیس کے سربراہ سراج الاسلام نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے چھروں سے روئے اور ان کی اہلیہ پر حملہ کیا۔
اویجیت رائے کے چھوٹے بھائی انوجیت روئے کا کہنا ہے کہ رائے اسی ماہ امریکہ سے واپس بنگلہ دیش لوٹے تھے۔
اوجیت رائے نے ’مکتو مونا‘ یعنی آزاد ذہن کے نام سے بلاک سائٹ قائم کی تھی جس میں لبرل سکیولر تحریر شائع کی جاتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ رائے اپنی اہلیہ کے ہمراہ کتابی میلے سے سائیکل رکشہ پر واپس اپنے مکان جا رہے تھے جب دو حملہ آوروں نے ان کو سائیکل رکشہ سے اتارا ہے اور اور چھروں سے کئی وار کیے۔
اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سہیل احمد نے کہا کہ ’رائے کے سر پر زحم آئے تھے اور خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ہسپتال میں چل بسے۔‘
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے قتل میں استعمال ہونے والے چھرے برآمد کر لیے گئے ہیں۔
40 سالہ رائے گذشتہ دو سالوں میں بنگلہ دیش میں مارے جانے والے دوسرے بلاگر ہیں جبکہ سنہ 2004 کے بعد سے وہ چوتھے مصنف ہیں جنھیں قتل کیا گیا ہے۔







