سعودی بلاگر کو کوڑے لگانے کی سزا تیسری بار ملتوی

رائف بداوی کو گذشتہ سال مئی میں توہین مذہب کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرائف بداوی کو گذشتہ سال مئی میں توہین مذہب کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی

سعودی عرب کے حکام کے مطابق بلاگر رائف بداوی کو دی جانے کوڑوں کی سزا دوبارہ ملتوی کر دی ہے۔

بلاگر رائف بداوی کو جمعے کو 50 کوڑے لگانے کی سزا دی جانے تھی تاہم اسے بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

یہ مسلسل تیسری بار ہے کہ ان کی سزا ملتوی کی گئی ہے۔

گذشتہ جمعے کو حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعوی بلاگر بداوی کو دی جانے والی کوڑوں کی سزا طبی بنیادوں پر ملتوی کر دی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹروں کی تجویز پر بداوی کو دی جانے والی سزا کو طبی بنیادوں پر ملتوی کیا گیا۔

رائف بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر نے بھی تصدیق کی تھی کہ ان کے شوہر کو جمعے کو کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی تاہم انھیں اپنے شوہر کی صحت کے بارے میں تشویش ہے۔

انصاف حیدر 2012 میں اپنے شوہر پر قاتلانہ حملے کے بعداپنے تین بچوں کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔

رائف بداوی کو گذشتہ سال مئی میں توہین مذہب کے الزام میں دس سال قید اور ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی۔

بلاگر رائف بداوی اپنے تین بچوں کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہBadawi Familly

،تصویر کا کیپشنبلاگر رائف بداوی اپنے تین بچوں کے ساتھ

کوڑوں کی سزا پر 20 ہفتوں میں پوری جانے تھی اور پہلی بار انھیں رواں ماہ کی نو تاریخ کو 50 کوڑے مارے گئے تھے تاہم گذشتہ جمعے کو کوڑوں کی سزا ملتوی کر دی گئی تھی۔

اس کے بعد بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سعودی شاہ کے دفتر نے سعودی بلاگر رائف بداوی کو ملنے والی ایک ہزار کوڑوں کی سزا نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ کو بھیج دی تھی۔

نو جنوری کو جدہ کی ایک مسجد کے باہر بداوی کو سرِ عام کوڑے مارے گئے تھے، جس پر امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور ناروے سمیت کئی ملکوں نےتنقید کی تھی۔

بداوی نے سعودی عرب میں لبرل سعودی نیٹ ورک کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔