سعودی بلاگر کو دوسری بار کوڑے لگانے کی سزا ملتوی

سعودی بلاگر

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسعودی بلاگر کو توہینِ مذہب اور سرکشی کے الزام میں کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی

سعودی عرب نے بلاگر رائف بدوی کی کوڑوں کی سزا پر طبی وجوہات کی بنا پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

سعودی بلاگر کو جمعہ کی نماز کے بعد سائبر کرائم اور سرکشی کے الزام میں دوسری بار سرِعام کوڑے لگائے جانے تھے۔

گزشتہ مئی رائف بدوی کو 1000 کوڑوں اور دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

گزشتہ جمعے کو بدوی کو 50 کوڑے مارے گئے تھے جس پر پوری دنیا میں احتجاج کیا گیا۔ سعودی عرب نے اس احتجاج پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

سعودی عرب نے رائف کی صحت اور ان کی باقی سزا کو ملتوی کیے جانے پر ابھی کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سزا کے مطابق ان کو ہر ہفتے کوڑے مارے جانے ہیں۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں رائف بدوی کو کوڑوں کی سزا دیے جانے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا

ہیومن رائٹس کی تنظیم ایمنسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ رائف بدوی کا معائنہ ڈاکٹر نے کیا اور ان کو لگا کہ گزشتہ ہفتے بدوی کو لگائے گئے کوڑوں کی وجہ سے آنے والے زخم ابھی بھرے نہیں ہیں اور وہ مزید کوڑے کھانے کے قابل نہیں ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق ڈاکٹر نے مطالبہ کیا کہ سزا کو اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا جائے۔

بدوی سعودی عرب میں ایک انٹرنیٹ ویب سائٹ ’لبرل سعودی نیٹ ورک‘ کے بانی ہیں اور انھیں 2012 میں توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی ویب سائٹ بند کر دی گئی تھی۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بدوی کو دی جانے والا سزا کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔