لیبیا کی فوج نے دولت اسلامیہ سے سرت شہر ’واپس لے لیا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
لیبیا کی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد ساحلی شہر سرت کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ عراق اور شام کے باہر سرت دولت اسلامیہ کا سب سے مضبوط گڑھ تسلیم کیا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے جنگی طیاروں نے سرت میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بم برسائے جبکہ بحریہ نے بندرگاہ کی جانب میزائل داغے۔ ان کے مطابق لڑائی ابھی بھی جاری ہے۔
طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اتحادی حکومت کی فوج نے گذشتہ ماہ سرت کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔
فوج کے ترجمان جنرل محد الغاسری نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے سینیئر اہلکار جنوب کے ریگستان کی جانب فرار ہو گئے ہیں جب کہ بہت سے جنگجو ابھی بھی سٹی سینٹر کے محاصرے میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حالیہ لڑائی شہر کے کانفرنس سینٹر میں مرتکز رہی جہاں کبھی بین الاقوامی کانفرنسز منعقد ہوتی تھیں لیکن اب وہ دولت اسلامیہ کا کمانڈ سینٹر بن چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کی وفادار فوج جسے جنگی طیاروں کی مدد حاصل تھی نے کانفرنس سنٹر پر شدید حملہ کیا۔
دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اس حملے کا جواب سنائپر فائر، مشین گنوں اور مارٹر گولے استعمال کرتے ہوئے دیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس میں دو فوجی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال رہے کہ سرت لیبیا کے سابق برطرف رہنما معمر قذافی کا آبائی شہر تھا۔
طرابلس میں اتحادی حکومت کا قیام دو ماہ قبل عمل میں آیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت کو دولت اسلامیہ کے خلاف مسلح ہونے کی اجازت ملنی چاہیے۔







